کوہ امام ضامن کی موقوفہ اراضی کے تحفظ کی کوششوں کو تقویت

   


مقدمہ کی دوبارہ سماعت کیلئے وقف بورڈ کی درخواست کو ہائیکورٹ نے قبول کرلیا
حیدرآباد۔3۔جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے کوہ امام ضامن کے تحت موقوفہ اراضی کے تحفظ کیلئے عدالت میں داخل درخواست میں ابتدائی کامیابی ملی ہے اور ہائی کورٹ نے وقف بورڈ کی درخواست دوبارہ سماعت کو قبول کرکے مقدمہ کی کشادگی کا فیصلہ کیا ہے۔ کوہ امام ضامن کی اراضی پر قبضہ اور اس کی پلاٹنگ کی سرگرمیوں کے انکشاف پر یہ بات سامنے آئی تھی کہ وقف بورڈ کی جانب سے عدالت میں مقدمہ میں پیروی نہ کرنے سے معزز جج نے وقف بورڈ کے مقدمہ کو خارج کردیا تھااور اس انکشاف کے بعد وقف بورڈ سے فوری سی آر پی نمبر 5402/2010 کی دوبارہ کشادگی کی درخواست پیش کی تھی جسے آج جسٹس اے وینکٹیشور ریڈی نے قبول کرکے مقدمہ کی سماعت کو منظوری دی ہے۔ کوہ امام ضامن کی اراضی پر قبضہ کے سلسلہ میں اطلاع ملنے پر صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان نے رکن مولانا سید نثار حسین حیدرآقا کے ہمراہ کوہ امام ضامن کا دورہ کرکے وہاں جاری تعمیری سرگرمیوں کو رکوانے اقدامات کئے تھے ۔ عدالت میں بورڈ کی کوتاہی کا انکشاف ہونے پر جناب ابواکرم اسٹینڈنگ کونسل وقف بورڈ نے مقدمہ کی ازسر نو سماعت کیلئے درخواست داخل کی تھی جسے قبول کرلئے جانے کے بعد بورڈ کی جانب سے کوہ امام ضامن کی جملہ اراضی کے تحفظ کیلئے عدالت میں دستاویز اور ثبوت پیش کئے جائیں گے اور مقبوضہ اراضی کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ وقف بورڈ عدالت میں اب تک کی غلطیوں کو ممکنہ حد تک سدھارنے کے علاوہ جن مقدمات میں شکست ہوئی ان کو چیالنج کرنے کے اقدامات کریگا تاکہ موقوفہ اراضی کو حاصل کرکے اس کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ بورڈ کسی بھی غلطی کو مثال بناکر اپنی جائیدادوں کو برباد ہونے نہیں چھوڑسکتا بلکہ بورڈ سے قانون میں موجود تمام حقوق کو استعمال کرکے بورڈ کی جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اقدامات کئے جائیں گے۔م