کیا حکومت تلنگانہ پرانی گاڑیوں کے چلن کو برخاست کرنے کیلئے تیار ہے ؟

   

حیدرآباد :۔ تلنگانہ میں ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے لیے 15 سال پرانی گاڑیوں کے چلن کو برخاست کرنے کا کام مشکل ہوگا جو ریاست میں ایک کروڑ سے زیادہ ہیں ۔ بالخصوص ٹو وہیلرس کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ مرکزی حکومت نے اس کے بجٹ میں ریاستی حکومتوں سے کہا کہ پرانی گاڑیوں کو ہٹا دینے کے لیے ایک اسکراپ پالیسی اختیار کی جائے ۔ تاہم محکمہ ٹرانسپورٹ کے عہدیداروں نے کہا کہ پرانی گاڑیوں کو برخاست کرنا ان کے لیے بے دل کرنے والا کام ہوگا کیوں کہ ریاست میں ایک کروڑ سے زیادہ گاڑیاں ہیں ۔ حالانکہ یہ کمرشیل گاڑیوں کے سلسلہ میں مسئلہ نہیں ہے کیوں کہ یہ گاڑیاں باقاعدہ طور پر وقفہ وقفہ سے فٹ نیس ٹسٹس کے لیے آتی ہیں ، مسئلہ انفرادی گاڑیوں کے لیے ہے جو بمشکل ہی آر ٹی اے دفاتر آتی ہیں ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق تلنگانہ میں 1.25 کروڑ سے زائد پرانی گاڑیاں ہیں جو 15 سال پرانی ہیں ۔ اگر مرکز کی تجویز کو قبول کیا گیا تو کمرشیل گاڑیوں کی صورت میں 15 سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں اور نان کمرشیل گاڑیوں کی صورت میں 20 سال پرانی گاڑیوں کو اسکراپ میں ڈالنا ہوگا ۔ ایک سینئیر آفیسر نے کہا کہ 20 سال پرانی 13 لاکھ سے زائد گاڑیاں ہیں اور 15 سال پرانی 14 لاکھ گاڑیاں ہیں ( جو کمرشیل گاڑیوں کے زمرہ میں آتی ہیں ) ماضی میں ریاستی حکومت نے ان کی ایج لمیٹ کو پار کرنے والی گاڑیوں کے لیے گرین ٹیکس کا نفاذ کیا تھا تاہم موٹر سٹس ، بالخصوص ٹو وہیلرس حد سے تجاوز کرنے کے بعد بھی چلائی جارہی ہیں ۔ چیتک ، لونا ، سوزوکی ، Rx100 جیسی گاڑیاں اور دوسری گاڑیاں سڑکوں پر پائی جاتی ہیں ۔ اس دوران آٹو یونینس نے حکومت پر زور دیا کہ اس سلسلہ میں عوام کو قواعد کے بارے میں واقف کروایا جائے اور انہیں اس بات پر مسائل کیا جائے کہ وہ ان کی پرانی گاڑیوں کو استعمال کرنا چھوڑدیں ۔ تلنگانہ آٹو اینڈ موٹر ویلفیر یونین کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ 100 فیصد کمرشیل گاڑیوں کو برخاست کردیا جانا چاہئے ۔ میونسپل آفسیس ، آر ٹی سی کی گاڑیوں ، آٹو رکشاس کو ان کی ایج لمیٹ پوری ہونے پر ناقابل استعمال قرار دینا چاہئے کیوں کہ یہ مسافرین کے مفاد میں اہم ہے ۔ انفرادی گاڑیوں کی صورت میں صرف ان گاڑیوں کو برخاست کیا جائے جو آلودگی پیدا کرتے ہیں انہوں نے پوچھا کہ حکومت گرین ٹیکس کیوں وصول کررہی ہے جب اس کی پالیسی آلودگی پیدا کرنے والی گاڑیوں کو بند کرنے کی ہے ۔۔