سازش، منصوبہ یا اسلام سے متاثر؟
(محمد نعیم وجاہت)
حیدرآباد۔ 17 مئی : ملک میں مسلمانوں کو بدنام کرنے تمام شعبہ حیات میں انہیں مشکوک بناتے ہوئے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جو ایک عالمی سازش کا حصہ ہے۔ مسلمانوں کے خلاف اکثریتی طبقہ میں بدگمانی پھیلانے کے لئے کئی نیٹ ورکس کام کررہے ہیں۔ مسلمانوں کو دہشت گردی، لوجہاد، تبدیلی مذہب، دہشت گردی کو فروغ دینے اور ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہنے والوں کی پشت پناہی کرنے، جاسوسی کے الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں قوم کے سامنے ملک کے غدار اور مجرم کی طرح پیش کیا جارہا ہے۔ مگر ان سازشی پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لینے پر تصویر کے دوسرے رخ کے چونکا دینے والے انکشافات بھی ہو رہے ہیں جس کو منظر عام پر نہیں لایا جارہا ہے۔ خفیہ رکھتے ہوئے حقائق کی پردہ پوشی کی جارہی ہے اور تحقیقاتی ایجنسیاں بھی ان پہلوؤں کو نظرانداز کررہی ہیں۔ مثال کے طور پر 9 مئی کو بھوپال اور حیدرآباد انٹلی جنس بیورو (IB)، مدھیہ پردیش کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (ATS) اور تلنگانہ کاؤنٹر انٹلی جنس (CI) سیل کی مشترکہ کارروائی کے بعد ’’حزب التحریر‘‘ کا نام منظر عام پر جس کو ایک اسلامی بنیاد پرست تنظیم قرار دیا جارہا ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ اب تک کی کارروائیوں میں تحقیقاتی ایجنسیوں نے جن 16 افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے گرفتار کیا ہے، ان میں 8 ایسے افراد ہیں جنہوں نے اپنا ہندو مذہب تبدیل کرتے ہوئے اسلام قبول کیا ہے۔ اصلی کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ کیا ان لوگوں نے دینی تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور مقاصد ہیں۔ اگر کوئی مسلمان غیر قانونی کارروائی میں گرفتار ہوتا ہے توتحقیقاتی ایجنسیاں تہہ تک پہنچ کر ان کی نسلوں تک جانچ کرتے ہیں، پھر ان کے عزائم کو منظر عام پر لاتے ہیں۔ مگر ان 8 اسلام مذہب قبول کرنے والوں کے ماضی کو فراموش کردیا گیا ہے۔ ان کے آر ایس ایس سے روابط کو فراموش کرتے ہوئے ذاکر نائک اور دہشت گرد تنظیموں سے ان کے تار کو جوڑتے ہوئے کیا حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش تو نہیں کی جارہی ہے؟ تاریخ گواہ ہے، آر ایس ایس کے علاوہ دیگر کٹر ہندوتوا تنظیموں نے مسلمانوں کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ لو جہاد کا مسلمانوں پر الزام عائد کیا جارہا ہے۔ مگر مسلم لڑکیوں کو مرتد بنانے کے لئے خصوصی پیاکیج کا اعلان کرتے ہوئے مہم چلائی جارہی ہے۔ ملک کے کئی شہروں اور مساجد میں دہشت گرد حملے ہوئے جن میں ہندو دہشت گرد شامل ہونے کا اس وقت کے وزیر داخلہ چدمبرم نے اعلان کیا تھا۔ کئی ہندوؤں کو گرفتار بھی کیا تھا جن میں موجودہ بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے علاوہ دوسرے شامل ہیں جن کے خلاف مقدمات بھی درج کئے گئے اور جیل بھی بھیجا گیا تھا۔ ساتھ ہی ملک کی جاسوسی کے معاملے میں اکثریتی طبقہ کے کئی لوگ گرفتار ہوئے مگر ان کا خلاف کوئی شور شرابہ نہیں ہے اور نہ ہی ملک کے راز پڑوسی ممالک کو فروخت کرنے پر انہیں ملک کا غدار قرار دیا گیا۔ ملک بھر میں ہندو شدت پسندوں کی جانب سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف میڈیا اور سوشل میڈیا میں زہر افشانی کی جارہی ہے۔ مگر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والے آج بھی جیلوں میں بند ہیں۔ حکومتوں اور تحقیقاتی ایجنسیوں کی یکطرفہ کارروائی سے مسلمانوں کا امیج داغدار ہو رہا ہے اور پھر میڈیا ٹرائل میں انہیں ملک کا غدار بتایا جارہا ہے۔ قانون سب کے لئے ایک ہونا چاہئے مگر جب مسلمانوں کا معاملہ آتا ہے انہیں بدنام کرنے کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں کیا جاتا جب اکثریتی طبقہ کے نوجوانوں کی مجرمانہ سرگرمیوں کی بات آتی ہے تو ان کو نظرانداز کیا جاتا ہے، مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے جبکہ ہندو دہشت گردی کے ماضی میں جتنے بھی مقدمات درج کئے گئے ان میں سے بیشتر مقدمات کو ختم کردیا گیا۔ انعام کے طور پر پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو پارلیمنٹ کا رکن بنایا گیا اور بلقیس بانو کے مجرموں کو جیلوں سے رہا کردیا گیا۔