کیلیفورنیا میں 500قیدیوں کی موت کی سزا عمر قید میں تبدیل

   

نئی دہلی، 6 نومبر (یو این آئی) کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے ریاست کی سزائے موت کی فہرست میں شامل تمام 548 قیدیوں کی سزاؤں کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ امریکہ کی تاریخ میں اجتماعی معافی کا سب سے بڑا اقدام ہے ۔جمعرات کو کیے گئے اس اعلان کے بعد کیلیفورنیا میں سزائے موت کے تمام قیدیوں کی سزائیں عمر قید میں تبدیل ہو جائیں گی اور انہیں پیرول (قبل از وقت رہائی) کے امکان کے بغیر باقی زندگی جیل میں گزارنی ہوگی۔ ریاست میں گزشتہ 20 برس سے کسی قیدی کو سزائے موت نہیں دی گئی ہے ۔نیوزوم نے اپنے ایک کھلے خط میں کہا، میں یہ قدم اس لیے اٹھا رہا ہوں کیونکہ میرا پختہ یقین ہے کہ ریاست کی جانب سے کسی کی جان لینا کیلیفورنیا کی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا، ہمارے قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے اور ہم میں سے ہر ایک کی اخلاقی حیثیت کو متاثر کرتا ہے ۔امریکہ میں سزائے موت کی حمایت میں 1990 کی دہائی کے بعد سے مجموعی طور پر کمی آئی ہے ، تاہم اب بھی اسے اکثریتی عوامی حمایت حاصل ہے ۔ پیو ریسرچ سینٹر کے اگست میں جاری کردہ ایک سروے کے مطابق، 66 فیصد امریکی قتل کے مجرم قرار دیے جانے والوں کیلئے سزائے موت کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم تقریباً 73 فیصد افراد نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ کسی بے گناہ شخص کو سزائے موت دیے جانے کا خطرہ موجود ہے ۔سزائے موت کے مقدمات میں اکثر طویل قانونی کارروائی اور اپیلوں کے باعث بہت سے قیدیوں کو کبھی پھانسی نہیں دی جاتی۔ امریکہ کی 23 ریاستیں سزائے موت پر مکمل پابندی عائد کر چکی ہیں، جبکہ کئی دیگر ریاستوں میں بھی اس سزا پر عملاً عمل درآمد بند ہے ، اگرچہ قانون میں یہ سزا اب بھی برقرار ہے ۔اس کے برعکس امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سزائے موت کے حامی رہے ہیں اور انہوں نے سنگین وفاقی جرائم کے معاملات میں اس سزا کے استعمال کی حمایت کی ہے ۔ ان کی انتظامیہ نے اپریل میں فائرنگ اسکواڈ سمیت وفاقی سطح پر سزائے موت پر عمل درآمد کے طریقوں کو وسعت دینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔