ٹورنٹو: کینیڈا نے جمعرات کو پہلی بار مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیاں عائد کر دیں جنہیں وزارتِ خارجہ نے ’’انتہا پسند‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اوٹاوا فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد کو روکنے کیلئے اضافی اقدامات پر غور کر رہا تھا۔امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر اسرائیلی اتحادیوں کے ایسے ہی اقدامات کی پیروی میں کینیڈا کی پابندیاں ان چار افراد کے خلاف ہیں جن پر فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف براہِ راست یا بالواسطہ تشدد میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ پابندیاں ان افراد سے کسی طرح کی ڈیلنگ کو روکتی ہیں اور انہیں کینیڈا کے لیے ناقابلِ قبول اور غیر مجاز قرار دیتی ہیں۔ مغربی کنارے میں آباد کاروں کا تشدد اسرائیل کے مغربی اتحادیوں میں بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث ہے۔ یورپی یونین اور نیوزی لینڈ نے بھی پرتشدد آباد کاروں پر پابندیاں عائد کی ہیں اور اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرے۔کینیڈین وزیرِ خارجہ میلانی جولی نے بیان میں کہاکہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف انتہا پسند اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد میں اضافہ انتہائی پریشان کن ہے اور اس سے خطے کے امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔انہوں نے کہاکہ ان اقدامات سے ہم ایک واضح پیغام بھیج رہے ہیں کہ انتہا پسند آباد کاروں کے تشدد کی کارروائیاں ناقابلِ قبول ہیں اور اس طرح کے تشدد کے مرتکب افراد کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ کینیڈا نے حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے اور اس ماہ کے شروع میں ان افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جن پر گروپ کو عسکری تربیت اور وسائل فراہم کرنے کا الزام تھا۔کینیڈا نے جمعرات کو غزہ میں انسانی امداد کے لیے 65 ملین کینیڈین ڈالر (47.8 ملین ڈالر) کا بھی وعدہ کیا۔