آنجہانی چیف منسٹر کی خدمات کو خراج ، برسی کے موقع پر چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔4۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ کی تشکیل کے وقت ریاست تلنگانہ فاضل بجٹ کی حامل ریاست محض ڈاکٹر کے روشیا کی وجہ سے تھی کیونکہ ڈاکٹر کے روشیا نے اپنے دور میں متحدہ ریاست آندھراپردیش کو اس قدر مستحکم بنایا تھا کہ جب ریاست کی تقسیم کا فیصلہ کیا گیا تو اس وقت تلنگانہ کی تشکیل کے بعد نئی ریاست 16 ہزار کروڑ کے فاضل بجٹ والی ریاست قرار پائی ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج ڈاکٹر کے روشیا کی تیسری برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ڈاکٹر کے روشیا کو بھرپور خراج پیش کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے ڈاکٹر کے روشیا کو حکومت میں نمبر 2 اور نمبر1 دونوں مقامات پر دیکھا ہے اور دونوں ہی عہدوں پر روشیانے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ متحدہ ریاست آندھراپردیش کے چیف منسٹر کی حیثیت سے کے روشیا نے جو خدمات انجام دی ہیں وہ قابل قدر ہیں لیکن انہوں نے کئی چیف منسٹرس کے دور میں نمبر 2 پر کابینہ میں رہتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ وہ قابل اور اہل ہیں جنہیں بیشتر چیف منسٹرس کا مکمل اعتماد حاصل رہا۔مسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ ڈاکٹر کے روشیا جب چیف منسٹر تھے اس وقت وہ رکن اسمبلی رہے اور ڈاکٹر روشیا انہیں اپنے چیمبر میں بلایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ وہ اچھے انداز میں ایوان سے خطاب کرتے ہیں اور انہیں ہمیشہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرتے ہوئے ایوان میں سوال کرنے کا مشورہ دیا کرتے تھے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ جانتے ڈاکٹر کے روشیا سے انہوں نے سیکھا ہے کہ اگر حکومت میں رہتے ہیں تو اپوزیشن کے سوالات کے اطمینان بخش جواب کس طرح سے دیئے جاتے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ مسٹر کے روشیا جس برداری سے تعلق رکھتے ہیں وہ معاشی طور پر حالات کو مستحکم کرنے کے فن سے واقف ہے اور اسی لئے روشیا نے بہ حیثیت فینانس منسٹر کئی چیف منسٹرس کے ساتھ خدمات انجام دیتے ہوئے ریاست کو ترقی کی منزلوں پر پہنچایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت شہر حیدرآباد میں ڈاکٹر کے روشیا کا مجسمہ نصب کرنے کے لئے تیار ہے اگر ان کے طبقہ کی جانب سے جگہ کی نشاندہی کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے نمائندگی کی جاتی ہے تو حکومت محکمہ عمارات و شوارع کے ذریعہ ان کی آئندہ برسی تک اس کام کو مکمل کروائے گی۔ انہو ںنے بتایا کہ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں جب سیاسی بحران پیدا ہوا تھا اس وقت پارٹی ہائی کمان اور محترمہ سونیاگاندھی کی نظریں بھی ڈاکٹر کے روشیا پر پڑی اور انہیں چیف منسٹر کا عہدہ دیا گیا ۔انہوں نے سیاسی بحران کے حالات میں ریاست آندھراپردیش میں حکومت سنبھالی اور وہ تلنگانہ اور آندھراپردیش کو ایک نظر سے دیکھا کرتے تھے ۔ چیف منسٹر نے ڈاکٹر کے روشیا کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمل ناڈو کے گورنر کی حیثیت سے بھی ان کی خدمات ناقابل فراموش رہی ہیں اور انہوں نے تمل ناڈو کے گورنر کے طور پر اپنی معیاد بغیر کسی تنازعہ کے مکمل کی ہیں۔3