کے سی آر اسمبلی میں واپس ہوں گے یا لوک سبھا جائیں گے؟

   

پارٹی حلقوں میں قیاس آرائیاں، ریونت ریڈی کی تنقیدوں سے بچنے قومی سیاست کو ترجیح، دلت کو اپوزیشن لیڈر بنانے کی تجویز
حیدرآباد۔/18 فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے بجٹ سیشن میں سابق چیف منسٹر اور بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر کی عدم شرکت کے بعد پارٹی میں یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ کے سی آر دوبارہ اسمبلی میں قدم نہیں رکھیں گے اور لوک سبھا انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے قومی سیاست کو ترجیح دیں گے۔ کے سی آر نے اگرچہ اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلہ پر قائدین سے کوئی مشاورت نہیں کی ہے لیکن بجٹ سیشن کے حالات کو دیکھتے ہوئے سابق چیف منسٹر نے قومی سیاست کو ترجیح دینے پر غور و خوض شروع کردیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے جارحانہ موقف اور کے سی آر کے بارے میں استعمال کئے گئے سخت الفاظ نے بی آر ایس سربراہ کو اسمبلی اجلاس میں شرکت سے روکے رکھا۔ 8 دن تک بجٹ سیشن جاری رہا لیکن ایک دن بھی وہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ اجلاس کے پہلے دن گورنر کے خطبہ کے بعد بی آر ایس پارٹی نے میڈیا کو اطلاع دی تھی کہ سیشن کے دوسرے دن کے سی آر اسمبلی آئیں گے لیکن لمحہ آخر میں انہوں نے فیصلہ تبدیل کردیا۔ الیکشن میں ناکامی اور کانگریس حکومت کی تشکیل کے بعد سے کے سی آر عوام کے درمیان نہیں آئے اور نلگنڈہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کانگریس حکومت کے خلاف مہم کا آغاز کیا۔ کے سی آر نے اسمبلی کے پہلے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔ 9 ڈسمبر کو نومنتخب ارکان کی حلف برداری کیلئے اجلاس طلب کیا گیا تھا اور پانچ دن تک اجلاس جاری رہا لیکن کولہے کے آپریشن کے سبب کے سی آر نے شرکت نہیں کی۔ انہوں نے بجٹ سیشن سے عین قبل اسپیکر پرساد کمار کے چیمبر میں اسمبلی کی رکنیت کا حلف لیا اور امید کی جارہی تھی کہ وہ بجٹ سیشن میں شریک ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے حملوں سے بچنے کیلئے کے سی آر نے خود کو بجٹ سیشن سے دور رکھا۔ اپوزیشن قائد کے بغیر ہی بجٹ سیشن کا اختتام عمل میں آیا حالانکہ کے سی آر کو اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے مجبور کرنے چیف منسٹر کی جانب سے بارہا مساعی کی گئی اور عدم شرکت کو نشانہ بنایا گیا۔ کے سی آر نہیں چاہتے تھے کہ ریونت ریڈی سے دوبہ دو تنقید کا سامنا کریں۔ حکومت کے جارحانہ موقف اور سابق حکومت کے فیصلوں کی تحقیقات کے رجحان کو دیکھتے ہوئے بی آر ایس قائدین کا کہنا ہے کہ سابق چیف منسٹر اسمبلی کے بجائے قومی سیاست میں حصہ لینے کو ترجیح دیں گے تاکہ لوک سبھا الیکشن کے بعد مرکز میں معلق پارلیمنٹ کی صورت میں تشکیل حکومت میں اہم رول ادا کرسکیں۔ اسمبلی کا آئندہ سیشن جولائی میں ہوگا جس میں مکمل بجٹ پیش کیا جائے گا۔ اس سے قبل لوک سبھا کے چناؤ ہوں گے اور میدک یا کسی اور حلقہ سے کامیابی کے بعد کے سی آر کسی دلت کو اسمبلی میں قائد اپوزیشن نامزد کرتے ہوئے گجویل سے اپنا استعفی پیش کردیں گے۔1