کانگریس رکن پارلیمنٹ کرن کمار ریڈی کا سوال، کے ٹی آر کے حکومت کے خلاف الزامات مسترد
حیدرآباد ۔ 11۔ جون (سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ کرن کمار ریڈی نے کالیشورم پراجکٹ میں بدعنوانیوں کی جانچ کے سلسلہ میں کانگریس حکومت پر سازش کے الزامات کو مسترد کردیا۔ میڈیا بات چیت کرتے ہوئے کرن کمار ریڈی نے کہا کہ کمیشن کے روبرو جو افراد پیش ہوئے ہیں، ان تمام میں اوپن کورٹ میں سوالات کے جوابات دیئے لیکن کے سی آر نے اوپن کورٹ کے بجائے کمیشن کے صدرنشین سے نجی طور پر وقت مانگا تاکہ سوالات اور ان کے جواب عوام تک نہ پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے روبرو کے سی آر کی پیشی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر کے ٹی آر حکومت پر تنقید کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کسی کے خلاف سازش کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ کانگریس پارٹی نے علحدہ تلنگانہ ریاست ت شکیل دی ہے جبکہ بی آر ایس نے خوشحال ریاست کو مقروض ریاست میں تبدیل کردیا ۔ کالیشورم پراجکٹ کے ذریعہ 48 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا جو پورا نہیں ہوا ۔ کرن کمار ریڈی نے سوال کیا کہ کے سی آر نے اوپن کورٹ کے بجائے تنہائی میں جواب دینے کو کیوں ترجیح دی۔ اگر پراجکٹ کی تعمیر میں کوئی باقاعدگی نہیں ہوئی ہے ، تو پھر انہیں کھلے عام سوالات کا سامنا کرنا چاہئے تھا ۔ کرن کمار ریڈی نے الزام عائد کیا کہ بھاری رقومات ہڑپنے کیلئے پراجکٹ کے ڈیزائن میں تبدیلی کی گئی ہے۔ کالیشورم مشن نے عہدیداروں سے تحقیقات کی تکمیل کے بعد کے سی آر ، ہریش راؤ اور راجندر کو طلب کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کے ڈیز ائن میں تبدیلی کا فیصلہ کے سی آر نے کیا تھا ۔1