تاریخی عمارتوں کے تحفظ کا مطالبہ، کمیشن کیلئے کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر
حیدرآباد ۔ 26 ۔ اگست (سیاست نیوز) سابق رکن پارلیمنٹ جی ویویک نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں کے سی آر کی حکمرانی تغلق دور حکومت کی یاد تازہ کرتی ہے ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ویویک نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران کے سی آر نے تاریخی عمارتوں کے تحفظ کی بات کہی تھی لیکن اقتدار ملنے کے بعد وہ تاریخی عمارتوں کو منہدم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کمیشن حاصل کرنے کیلئے کالیشورم پراجکٹ تعمیر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں صرف کے سی آر ارکان خاندان کی بھلائی کے لئے حکومت کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے آبپاشی پراجکٹس میں بڑے پیمانہ پر دھاندلیوں کا الزام عائد کیا اور کہا کہ حکومت کرپشن کے خاتمہ کا دعویٰ کرتی ہے لیکن دھاندلیوں کی تحقیقات کے لئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے اسمبلی اور سکریٹریٹ کی نئی عمارتوں کی تعمیر کے نام پر موجودہ عمارتوں کے انہدام کی مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلی اور سکریٹریٹ کی عمارتیں حکومت کی ضروریات کی تکمیل کیلئے کافی ہے لیکن مختلف بہانے بناکر چیف منسٹر انہیں منہدم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ سے ابھی تک کسی بھی ضلع کو فائدہ نہیں پہنچا جبکہ پراجکٹ کے نام پر بھاری قرض حاصل کیا گیا جس سے عوام پر بوجھ عائد ہوگا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دلتوں کو 3 ایکر اراضی فراہم کرنے کا کے سی آر نے اعلان کیا تھا لیکن اس وعدہ کی آج تک تکمیل نہیں کی گئی ۔ برخلاف اس کے عادل آباد میں پارٹی آفس کی تعمیر کے لئے دلتوں کی اراضی چھین لی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں سولار اینرجی 4.50 روپئے فی یونٹ دستیاب ہے لیکن چیف منسٹر پڑوسی ریاستوں سے 5.50 روپئے فی یونٹ برقی حاصل کر رہے ہیں۔ اس معاملہ کی سی بی آئی تحقیقات کی جانی چاہئے۔