پارٹی حلقوں میں موضوع بحث، کے ٹی آر کے علاوہ ایس سی، ایس ٹی قائدین کے نام زیرغور
حیدرآباد ۔ یکم اکٹوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے قومی پارٹی تشکیل دینے کی تمام تیاریاں مکمل کرلی ہے۔ فطری بات یہ ہیکہ وہ ہی قومی جماعت کے سربراہ ہوں گے۔ تاہم انہیں ملک کی دوسری ریاستوں کیلئے بھی اپنی یونٹس تشکیل دینا پڑے گا۔ ٹی آر ایس حلقوں میں یہ بات موضوع بحث بنی ہوئی ہیکہ تلنگانہ یونٹ کا صدر کون ہوگا۔ فی الحال چیف منسٹر کے فرزند کے ٹی آر ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ ہے انہیں ریاستی یونٹ کا صدر بنایا جائے گا یا کسی دوسرے قائد کا انتخاب کیا جائے گا۔ پارٹی حلقوں میں اس مسئلہ پر بہت زیادہ دلچسپی دیکھی جارہی ہے۔ اس مسئلہ پر بھی پارٹی حلقوں میں قائدین کی مختلف رائے پائی جاتی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بالخصوص ٹی آر ایس کی مخالفت کرنے والے قائدین ٹی آر ایس کو خاندانی جماعت قرار دے رہے ہیں۔ ان حالات میں کے ٹی آر کو ریاستی یونٹ کا صدر مقرر کیا جاتا ہے تو قومی پارٹی بھی خاندانی جماعت میں تبدیل ہوجانے کا عوام میں تاثر ہوجائے گا۔ اس پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے۔ ایسی تنقیدوں اور الزامات سے محفوظ رہنے کیلئے چیف منسٹر کے سی آر پسماندہ طبقات ایس سی یا ایس ٹی طبقات کے کسی قائد کو ریاستی یونٹ کا سربراہ مقرر کرسکتے ہیں تاکہ خاندانی پارٹی ہونے کا جو ٹیاگ ہے اس سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔ واضح رہیکہ تلنگانہ کی تحریک چلانے کے دوران کے چندرشیکھر راؤ نے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد پہلا چیف منسٹر دلت لیڈر کو بنانے کا 2014ء کے اسمبلی انتخابات سے قبل اعلان کیا تھا۔ تاہم کامیابی کے بعد مختلف وجوہات کا بہانہ بناتے ہوئے کے سی آر چیف منسٹر بن گئے۔ اس مسئلہ پر اپوزیشن جماعتیں آج تک دلتوں کو دھوکہ دینے کا چیف منسٹر کے سی آر پر الزام عائد کرتے ہوئے تنقیدیں کرتے ہیں اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے بھی چیف منسٹر تلنگانہ یونٹ کا صدر ایس سی طبقہ کے قائد کو مقرر کرسکتے ہیں۔ تاہم پارٹی کے چند قائدین کا احساس ہیکہ اسی طرح کی تنقیدوں کی چیف منسٹر کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ ریاست میں پارٹی کو مسلسل تیسری مرتبہ اقتدار میں لانے کیلئے اپنے فرزند کے ٹی آر کو ریاستی یونٹ کا صدر مقرر کرسکتے ہیں۔ کے ٹی آر نے بحیثیت ورکنگ پریسیڈنٹ اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کردیا کہ وہ پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے کی تمام صلاحیت رکھتے ہیں۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات اور مقامی اداروں کے بلدی انتخابات میں کے ٹی آر نے پارٹی کیلئے کامیاب انتخابی مہم چلائی تھی۔ آئندہ اسمبلی کے عام انتخابات چیف منسٹر کے سی آر کی سیاسی مستقبل کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس لئے پارٹی قائدین کا احساس ہیکہ ریاستی یونٹ کی ذمہ داری کے ٹی آر کے حوالے کی جاتی ہے تو وہ پارٹی امیدواروں کی کامیابی میں کلیدی رول ادا کریں گے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے دلت طبقات کی پارٹی کو تائید حاصل کرنے کیلئے دلت بندھو اسکیم کو متعارف کرایا۔ بی جے پی کی جانب سے قبائیلی طبقہ کی خاتون کو صدرجمہوریہ ہند نامزد کرنے کے بعد ریاست میں قبائلوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے ایس ٹی طبقات کے تحفظات کو 10 فیصد تک توسیع دینے اور گریجن بندھو اسکیم متعارف کرانے کا اعلان کیا۔ لہٰذا کے سی آر اپنے فرزند کو تلنگانہ یونٹ کا صدر مقرر کرتے ہیں تو انہیں تمام طبقات کی تائید حاصل ہوگی اور عوام اپوزیشن کی تنقیدوں کو نظرانداز کردیں گے۔ واضح رہیکہ حال ہی میں گجرات کے سابق چیف منسٹر شنکر سنگھ واگھیلا نے پرگتی بھون پہنچ کر قومی جماعت تشکیل دینے کے سی آر کے فیصلے کی بھرپور تائید کرچکے ہیں۔ کے سی آر قومی پارٹی میں شنکرسنگھ واگھیلا کو اہم ذمہ داری سونپتے ہوئے شمالی ہند پر پکڑ مضبوط کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ن