ہر سال 1475 ملین ٹن بیف کی برآمد، برازیل سے 3012 ملین ٹن کی برآمدات
حیدرآباد 4 جون (سیاست نیوز) ہندوستان میں ہر سال عیدالاضحی سے عین قبل گائے کے تحفظ کے لئے ہندوتوا تنظیمیں اور خود ساختہ گاؤ رکھشک میدان میں اُتر آتے ہیں۔ حکومتوں کی سرپرستی کے ذریعہ مسلمانوں کو بڑے جانور کی قربانی سے روکنے کے لئے حملوں اور ہراسانی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گاؤ رکھشکوں اور ہندوتوا تنظیموں کو گائے کی فکر سال میں 10 ماہ تک نہیں رہتی اور عید سے قبل اچانک ہمدردی اُبھر آتی ہے۔ ہندوتوا تنظیمیں اور گاؤ رکھشک بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ بیف اکسپورٹ میں ہندوستان کا دنیا بھر میں دوسرا مقام ہے۔ گزشتہ 10 برسوں سے مرکز میں بی جے پی حکومت کے باوجود بیف اکسپورٹ میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی حالانکہ بی جے پی قائدین سیاسی مقصد براری کے لئے ذبیحہ گاؤ پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بیف اکسپورٹ سے متعلق سروے میں دنیا کے 5 ممالک کی نشاندہی کی گئی جہاں سب سے زیادہ بیف اکسپورٹ کا کاروبار ہے۔ برازیل سے سالانہ 3012 ملین ٹن بیف مختلف ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے۔ ہندوستان سے بیف اکسپورٹ کی مقدار 1475 ملین ٹن شمار کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق چند برسوں تک ہندوستان بیف اکسپورٹ میں دنیا میں سرفہرست رہا۔ تاہم حکومت کی بدلتی پالیسیوں کے نتیجہ میں بیف درآمد کرنے والے ممالک ہندوستان کے بجائے دیگر ممالک کے بیف کو ترجیح دے رہے ہیں۔ امریکہ سے ہر سال 1422 ملین ٹن بیف اکسپورٹ ہوتا ہے جبکہ آسٹریلیا سے 1400 ملین ٹن اور ارجنٹینا سے 795 ملین ٹن بیف مختلف ممالک کو اکسپورٹ کیا جاتا ہے۔ سروے کے مطابق بیف اکسپورٹ کے نتیجہ میں نہ صرف کسانوں کو فائدہ ہے بلکہ ممالک کے لئے بیرونی زرمبادلہ میں اضافہ کا اہم ذریعہ ہے۔ ہندوستان میں بیف اکسپورٹ کرنے والی زیادہ تر کمپنیوں کے مالکین غیر مسلم ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ زیادہ تر اکسپورٹرس برسر اقتدار بی جے پی سے قربت رکھتے ہیں۔ ہر سال ذبیحہ گاؤ کے سلسلہ میں مسلمانوں کو ہراساں سے تنگ آکر مسلم تنظیموں نے گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ کیا لیکن مرکزی حکومت اِس کے لئے تیار نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر حکومت گائے کو قومی جانور قرار دیتی ہے تو ایسی صورت میں ہر سال کسانوں کا سینکڑوں کروڑ کا نقصان ہوگا اور ہزاروں کی تعداد میں بڑے جانوروں کی موت واقع ہوگی۔V/1/m/b