گجرات میں143 سال پرانا کیبل برج گرگیا،91 اموات

,

   

765 فیٹ لمبائی والے پل پر بیک وقت 500 افراد کا ہجوم ہوگیا تھا، درجنوں افراد ہنوز ندی میں لاپتہ

احمدآباد: گجرات کے موربی میں اتوار کی شام تقریباً 7 بجے ایک بڑا حادثہ ہوا ہے۔ یہاں کیبل پل ٹوٹنے سے تقریباً 500 افراد ماچھو ندی میں گرگئے۔ کم از کم 91 افراد کی موت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ 100 سے زائد افراد ٹوٹے ہوئے برج میں اور ندی میں پھنسے ہوئے ہیں جنہیں بچانے کی پوری کوششیں جاری ہیں۔ یہ پل گزشتہ 6 ماہ سے بند تھا۔ اسی مہینے میں دیوالی کے ایک دن بعد یعنی 25 اکتوبر کو اسے عام لوگوں کیلئے کھولا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے مرنے والوں کے لواحقین کو 2 لاکھ روپئے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپئے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ امدادی کام جاری ہے۔ ریسکیو ٹیم کے ساتھ سینکڑوں مقامی لوگ بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ مودی نے چیف منسٹر بھوپیندر پٹیل سے بات کی اور ریسکیو آپریشن کے بارے میں دریافت کیا۔ بھوپیندر پٹیل نے کہا کہ راحت اور بچاؤ کا کام جاری ہے۔ زخمیوں کے فوری علاج کے انتظامات کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ حکومت گجرات نے مرنے والوں کے لواحقین کو 4 لاکھ روپئے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپئے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ گجرات کے دارالحکومت احمدآباد سے 200 کیلو میٹر کے فاصلہ پر ماچھوندی میں پیش آئے اس حادثہ پر کانگریس لیڈر راہول گاندھی، چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کے علاوہ دیگر قائدین نے بھی اظہارافسوس کیا ہے۔ ریاستی وزیر برجیش مشرا نے حادثہ میں درجنوں اموات کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ حادثہ کے مقام پر سرگرم حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہے اور تازہ اطلاعات سے جلد واقف کرایا جائے گا۔ گجرات میں دو ماہ بعد اسمبلی الیکشن مقرر ہے جس میں بی جے پی حکومت کو اپوزیشن کانگریس کے ساتھ ساتھ کجریوال زیرقیادت عام آدمی پارٹی سے سخت مسابقت کا سامنا ہے۔ یہ حادثہ اپوزیشن کانگریس اور عام آدمی پارٹی کیلئے بی جے پی کو نشانہ بنانے کا موقع ثابت ہورہا ہے۔ دیکھنا ہے اس واقعہ کا بی جے پی حکومت پر کتنا منفی اثر پڑتا ہے۔ اتفاق سے وزیراعظم مودی اس حادثہ کے وقت گجرات میں ہی ہیں۔ موربی کا یہ سسپنشن پل 143 سال سے زیادہ پرانا ہے اور اس کی لمبائی تقریباً 765 فیٹ ہے۔ یہ معلق پل نہ صرف گجرات کے موربی بلکہ پورے ملک کیلئے ایک تاریخی ورثہ ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک روز قبل سے یہ قدیم کیبل برج ٹوٹنے کے آثار نظر آرہے تھے اور آج شدید ہجوم کے باعث یہ پل واقعی ٹوٹ گیا۔ اس پل کا افتتاح 20 فروری 1879 کو ممبئی کے گورنر رچرڈ ٹیمپل نے کیا تھا۔ یہ 1880 میں اس وقت تقریباً 3.5 لاکھ روپئے کی لاگت سے مکمل ہوا تھا۔ اس وقت اس پل کو بنانے کا تمام سامان انگلینڈ سے درآمد کیا گیا تھا۔