گردابی طوفان ’ریمل‘ سے بنگال میں انتخابی سرگرمیاں متاثر

   

کولکاتہ: سمندری طوفان ’ریمل‘ نے مغربی بنگال میں انتخابی لے کو بگاڑ دیا ہے اور انتخابی منتظمین کے حساب کوکافی حد تک درہم برہم کر دیا ہے ۔ ریاست میں لوک سبھا کی نو سیٹوں کے لیے ساتویں اور آخری مرحلے کی پولنگ یکم جون کو ہونے والی ہے اور سیاست دانوں کو اس وقت سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ووٹروں کو کیسے راغب کیا جائے ۔ تقریباً 48 گھنٹے کی مسلسل بارش کے بعد بالآخر موسم نرم پڑگیا اور سیاستدانوں کو اگلے پانچ برسوں کے لئے عام لوگوں سے آشیرواد حاصل کرنے کی اجازت دے دی۔ قابل ذکر ہے کہ ریاست کی آٹھ سیٹوں کے لیے چھٹے مرحلے میں ریکارڈ 83 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی۔ اب ہفتہ کو ساتویں مرحلے میں 1.63 کروڑ سے زیادہ ووٹر 72 امیدواروں میں سے نو فاتحین کا انتخاب کرنے کے لیے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ آخری مرحلے میں ریاست کی جن نو لوک سبھا سیٹوں میں ووٹنگ ہوگی، ان میں حکمران ترنمول کانگریس کے دوسرے نمبر کے لیڈر ابھیشیک بنرجی کی جنوبی 24 پرگنہ کی ڈائمنڈ ہاربر سیٹ بھی شامل ہے۔ ترنمول اور بی جے پی نے کل نو امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے ۔ جبکہ سی پی آئی (ایم) نے چھ اور اس کے بائیں بازو کی اتحادی جماعتوں اے آئی ایف بی، آر ایس پی اور کانگریس نے بالترتیب ایک ایک سیٹ پر امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ تاہم، ووٹرز بنیادی طور پر دو اہم حریفوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ یعنی اصل مقابلہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول اور ان کی کٹر سیاسی حریف بی جے پی کے درمیان ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ہدف کے مطابق بی جے پی 30 سیٹیں جیتنے کا ہدف رکھتی ہے۔ ڈائمنڈ ہاربر کے علاوہ لوک سبھا کی آٹھ دیگر نشستیں دم دم، باراسات، بشیرہاٹ، جے نگر، متھرا پور، جادوپور، کولکاتہ جنوبی اور کولکاتہ شمالی ہیں۔