نئی دہلی : گردے کی بیماری کے علاج سے متعلق کتاب ‘اینڈ آف ٹرانسپلانٹ’کا اتوار کو یہاں شریدھر یونیورسٹی راجستھان کے رجسٹرار ڈاکر او پی گپتا، ہمس اسپتال کے چیرمین آچاریہ منیش اور کتاب کے مصنف ڈاکٹر بسوروپ رائے نے اجرا ء کیا ۔ اس کتاب میں گردے کی دائمی بیماری کرونک کڈنی ڈیزیز( سی کے ڈی ) کوریورس کرنے میں ریوٹیشنل ریجسٹینس اینڈ ڈائیٹ (گریڈ) عمل کی تاثیر کے بارے میں سریدھر یونیورسٹی اور دیانند آیورویدک کالج کی جانب سے ‘ پراسپیکٹو کوہورٹ اسٹڈی’ کی تفصیلات دی گئی ہیں ۔ اس مطالعہ یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جن مریضوں نے گریڈ طریقہ کار اپنایا، ان میں سے 75 فیصد ڈائیلاسز سے نجات پا چکے ہیں اور 89 فیصد مکمل یا جزوی طور پر ادویات سے نجات پا چکے ہیں ۔ اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ، پہلے حصے میں سی کے ڈی کو ریورس کرنے میں گریڈ سسٹم کو کیسے لاگو کیا جائے ، دوسرے حصے میں بتایا گیا ہے کہ اس طریقہ کو اپنانے کے کتنے دنوں بعد گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کو ڈائیلاسز اور ادویات سے نجات مل سکتی ہے ۔