گروگرام میں مساجد میں نماز جمعہ ادا کی گئی، بازار کھل گئے

   

گروگرام۔ مسلم گروپوں کی اپیل کے بعد سخت سیکورٹی میں گروگرام کے مختلف مقامات پر مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی گئی۔دریں اثنا جھڑپوں کے دو ہفتے بعد جمعہ کو گروگرام مسجد سے متصل دکانیں بھی کھول دی گئیں۔ دکاندار اپنے کاروبار کے دوبارہ شروع ہونے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ تاہم حالیہ جھڑپوں کی وجہ سے، زیادہ تر مساجد میں مصلیوں کی تعداد کم دیکھی گئی ۔ حکام نے بتایا کہ جمعہ کی نماز پرامن طریقہ سے ادا کی گئی اور کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔ زیادہ تر مساجد بشمول جامع مسجد سوہنا چوک، راجیو چوک کے قریب مسجد اور دیگر میں نماز جمعہ کے لیے معمول سے کم تعداد دیکھی گئی ۔ایک دکاندار اسلم نے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہماری دکانیں دو ہفتوں کے بعد کھل گئی ہیں۔ جھڑپوں کے بعد ہمارے ادارے بندکر دیے گئے تھے، ہمیں بہت زیادہ مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اب صورتحال معمول پر آگئی ہے۔نوح میں انتظامیہ نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ وہ گھروں میں نماز ادا کریں۔ جمعیت علمائے اسلام کے صدر مفتی سلیم قاسمی نے ایک بار پھر لوگوں سے کسی بھی کھلے مقام پر جمعہ کی نماز نہ پڑھنے کی اپیل کی اور کہا کہ وہ مساجد یا گھروں میں نماز ادا کریں۔ مسلم ایکتا منچ کے رکن شہزاد خان نے کہا ہم نے اپنی کمیونٹی کے ارکان سے کہا ہے کہ وہ کھلی جگہوں پر جمعہ کی نماز نہ پڑھیں۔ ضلع میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ورون دہیا، (اے سی پی) کرائم نے کہا، جمعہ کی نماز پرکوئی پابندی نہیں ہے۔ نماز کی اجازت تھی۔ ہم نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ غلط معلومات پر یقین نہ کریں۔ ہماری سائبرکرائم ٹیمیں ایک سماج مخالف پوسٹ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔