گریٹر انتخابات میں 21 طلبہ قسمت آزمائی کررہے ہیں

   

طلباء و نوجوانوں کو نظر انداز کرنے کی شکایت، دولت کی بنیاد پر ٹکٹوں کی فراہمی
حیدرآباد۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں 21 طلبہ قسمت آزمائی کررہے ہیں۔ ان میں سے 8 آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر 5 ، ٹی آر ایس 4 ، بی جے پی 2 اور مجلس اور آل انڈیا فارورڈ بلاک سے ایک ، ایک طالب علم کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ نوجوان امیدواروں کا احساس ہے کہ انتخابات میں طلباء و نوجوانوں کی حصہ داری ابھی بھی توقع سے کافی کم ہے۔ موجودہ حالات میں نوجوان طبقہ کو بہتر نمائندگی کے ذریعہ مجالس مقامی اور قانون ساز اداروں میں موقع دیا جانا چاہیئے۔ اگر نوجوانوں کو بہتر نمائندگی دی جائے تو رائے دہی کے فیصد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ گڈی ملکا پور ڈیویژن سے ڈی مادھو راؤ میدان میں ہیں جو ایم بی اے کے طالب علم ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ روایتی طرز کی سیاست کو ختم کرتے ہوئے نوجوانوں کیلئے مواقع میں اضافہ کرنے کے حق میں ہیں۔ آزاد امیدواروں کی حیثیت سے مقابلہ کرنے والے طلبہ کو شکایت ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے طلباء و نوجوانوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی نمائندگی کی صورت میں بلدی اداروں کے وقار میں اضافہ ہوگا۔ عام طور پر سیاسی جماعتیں دولت کی اساس پر ٹکٹ الاٹ کرتی ہیں جس کے نتیجہ میں خدمت کا جذبہ رکھنے والے نوجوان نظر انداز ہوجاتے ہیں۔