گستاخوں سے نرمی‘ احتجاجیوں پر لاٹھی

   

Ferty9 Clinic

ہمیں تو گردش حالات پہ رونا آیا
رونے والے تجھے کس بات پہ رونا آیا
ہندوستان بھر کے مختلف شہروں میں آج جمعہ کے موقع پر مسلمانوں نے ناموس رسالت ؐ کی خاطر زبردست احتجاجی مظاہرے کئے ۔ بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما اور ایک لیڈر نوین جندل کی گستاخیوں کے خلاف برہمی کا اظہار کیا اور اپنے جذبات کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاج منظم کیا ۔ جہاں جہاں بھی احتجاج ہوا وہاں وہاں مسلمانوں نے صرف اپنے جذبات کا اظہار کیا اور کسی طرح کے تشدد سے گریز کیا ۔ کوئی قانون شکنی والی حرکت نہیں کی ۔ کہیں کوئی تشدد نہیں کیا گیا ۔ کہیں کسی کی دلآزاری نہیں کی گئی ۔ کسی کے مذہبی جذبات کا استحصال نہیں کیا گیا ۔ کسی کو نشانہ نہیں بنایا گیا ۔ پرامن طریقے سے اپنے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچنے والوں اور پیارے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺکی شان اقدس میں گستاخی کرنے والوں کو سزائیں دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا گیا ۔ مظاہرے کئے گئے ۔ دہلی سے لے کر سہارنپور ‘ پریاگ راج سے لے کر کولکتہ ‘ بیلگاوی سے لے کر حیدرآباد اور کئی شہروں میں احتجاج کیا گیا اور گستاخ قائدین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ تاہم ہماری پولیس کے رول پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ جہاں گستاخ کارکنوں کی جانب سے کی گئی دلآزاری کے باوجود پولیس ان کے خلاف مقدمات درج کرنے ‘ ان سے پوچھ تاچھ کرنے اور سخت دفعات کے ساتھ مقدمہ درج کرکے جیل بھیجنے کی بجائے نرمی والا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ان گستاخوں کے خلاف کچھ بھی کرنے سے پولیس گریز کر رہی ہے ۔ ابھی تک انہیں پوچھ تاچھ کیلئے تک طلب نہیں کیا گیا ہے ۔ تاہم ان کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والوں کو پولیس نے لاٹھیوں سے نشانہ بنایا ہے ۔ چاہے پریاگ راج ہو یا حیدرآباد ہو سبھی مقامات پر ایسا لگتا ہے کہ پولیس نے ایک حکمت عملی کے تحت احتجاجیوں پر لاٹھیاں برسائی ہیں۔ احتجاج سے پہلے ہی پولیس نے چوکسی اختیار کرتے ہوئے بھاری جمیعت کو متعین کردیا تھا ۔ لا اینڈ آرڈر کی برقراری کیلئے یہ اگر درست بھی تھا تو احتجاجیوں کو اپنے جذبات کے پرامن اظہار کا موقع دیا جانا چاہئے تھا لیکن ان پر بے تحاشہ لاٹھیاں برسائی گئیں اور گرفتار کیا گیا ۔
پولیس کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں جانبداری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے ۔ پولیس کو پوری دیانتداری کے ساتھ کام کرتے ہوئے سبھی کے تعلق سے یکساں رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ مذہبی جذبات کا استحصال کرنے والوں کے خلاف صرف نوٹس جاری کرنے یا پھر ایف آئی آر درج کرتے ہوئے بری الذمہ ہونے کی روایت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ جن کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ان کی گرفتاری کیلئے بھی پولیس کو حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔ جب تک ایسے عناصر کو باضابطہ گرفتار کرتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی نہیں کی جاتی اور انہیں کیفر کردار تک نہیں پہونچایا جاتا اس وقت تک ان عناصر کی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی اور وہ اپنے بے لگام زبانوں سے ایسی بیہودہ حرکتیں کرتے رہیں گے ۔ آج اگر چند عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور انہیں سزائیں دلانے کے اقدامات کئے جائیں تو دوسروں کیلئے یہ لوگ نشان عبرت بنیں گے اور وہ اپنی زبانوں کو لگام کسنے کیلئے مجبور ہوجائیں گے ۔ قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے پرامن احتجاج کرنا سبھی کا حق ہے ۔ پولیس کو اپنی طاقت کا استعمال قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں یا پھر تشدد کا راستہ اختیار کرنے والوں کے خلاف کرنا چاہئے ۔ قانون شکنی کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی لیکن پولیس پرامن احتجاج کرنے والوں پر لاٹھیاں برساتے ہوئے ان کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتی ہے اور جنہوں نے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچائی ہے ان کے تعلق سے خاموش ہے ۔
جن لوگوں نے شان رسالت ؐ میں گستاخی کی ہے وہ قابل سزا ہیں۔ ہندوستان کے قانون میں بھی کسی کو بھی دوسروں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ اس صورتحال میں پولیس اور نفاذ قانون کی دوسری ایجنسیوں کو حرکت میں آنے اور نفرت پھیلانے والوں کے خلاف غیرجانبداری سے کارروائی کرنے اور انہیں کیفر کردار تک پہونچانے کی ضرورت ہے ۔ جو لوگ پرامن احتجاج کر رہے ہیں ان پر طاقت آزمائی قابل مذمت ہے اور ایسا کرنے سے پولیس کے امیج پر بھی سوال پیدا کرتا ہے ۔ ایسا کرنے سے پولیس کو اور دوسری ایجنسیوں کو گریز کرنا چاہئے ۔