گستاخوں کی صرف معطلی کافی نہیں

   

Ferty9 Clinic

بی جے پی نے عوامی ناراضگی کو محسوس کرتے ہوئے شان رسالتمآب ؐ میں گستاخی کرنے والی پارٹی ترجمان نوپور شرما کو پارٹی سے معطل کردیا ہے جبکہ ایک اور ترجمان نوین کمار جندال کو برطرف کردیا گیا ہے ۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ مذہبی ہستیوں کی ہتک کرنے کی کوششوں کو برداشت نہیں کرتی اور یہ اس کا وطیرہ نہیں رہ گیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں جس طرح کا ماحول پیدا کردیا گیا ہے اس کی وجہ سے ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد بھی بے لگام ہو کر تبصرے کرنے لگے ہیں۔ انہیں اس بات میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی کہ وہ دوسروں کے مذہب کی توہین کرتے ہیں اور متبرک ہستیوں کی ہتک کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔د راصل ملک کا ماحول اس قدر پراگندہ کردیا گیا ہے کہ دوسروں کے تعلق سے ہتک آمیز رویہ اختیار کرنا اور توہین آمیز زبان استعمال کرنا ہر ایک کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا ہے ۔ مذہب اسلام کے تعلق سے بدگمانیوں کو عام کردیا گیا ہے ۔ ہر کوئی اسلام کے تعلق سے لب کشائی کر رہا ہے اور بے لگام ہو کر تبصرے رکر رہے ہیں۔ انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں رہ گئی ہے کہ ان کی زبان دوسروں کیلئے دلآزاری کا باعث بن سکتی ہے ۔ دنیا کے کسی بھی مذہب میں کسی اور مذہب کی توہین یا متبرک ہستیوں کی ہتک کرنے کی گنجائش فراہم نہیں کی گئی ہے ۔ جو لوگ اس طرح کی بیہودہ حرکتیں کر رہے ہیں وہ خود اپنے مذہب پر عمل کرنے سے قاصر ہیں ۔ویسے تو بی جے پی کے قائدین کی جانب سے اشتعال انگیز اور متنازعہ بیانات دینا عام بات ہوگئی ہے ۔ یہ لوگ اسے اپنی شناخت کے طور پر اختیار کر رہے ہیں اور پولیس یا دوسری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اپنی ذمہ داریاں اس معاملے میں پوری کرنے سے گریز کر رہی ہیں جس کی وجہ سے ان کے حوصلے بلند ہوتے جا رہے ہیں اور وہ بد زبان ہوگئے ہیں۔ کوئی اسلام کو ختم کرنے کی بات کرتا ہے تو کوئی مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے کے دعوے کرتا ہے ۔ سرکاری ایجنسیاں اس طرح کی حرکتوں پر خاموشی اختیار کئے رہتی ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی اور انہیں بچانے کے بہانے تلاش کئے جاتے ہیں۔
بی جے پی نے بھی اب بادل نخواستہ کارروائی کرتے ہوئے پیغمبر اسلام ؐ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والی بدزبان نوپور شرما کو پارٹی سے معطل کردیا ہے جبکہ ایک اور ترجمان کو پارٹی سے خارج کردیا گیا ہے ۔ یہ پارٹی کی سطح پر کی گئی کارروائی ہے تاہم اس پر اکتفاء نہیں کیا جانا چاہئے ۔ ان دونوں گستاخوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے انہیں جیل بھیجا جانا چاہئے ۔ سماج کے طبقات میں نفاق پیدا کرنے اور ایک بڑی آبادی کی دلآزاری کرنے جیسے سنگین مقدمات درج کرتے ہوئے انہیں جیل بھیجا جاسکتا ہے ۔ ملک میں نراج پیدا کرنے کے اندیشوں کی بنیاد پر غداری کے مقدمات بھی ان کے خلاف دائر کئے جاسکتے ہیں کیونکہ ان ریمارکس کی وجہ سے ملک میں بے چینی کی فضاء پیدا ہوئی تھی ۔ کئی شہروں میںمسلمانوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا ۔ کانپور میں یہ احتجاج پر تشدد موڑ بھی اختیار کرگیا تھا ۔ تاہم مسلمانوں نے اس معاملہ میں بھی صبر سے کام لیا ہے ۔ بی جے پی کو محض سیاسی کارروائی کی بجائے قانونی کارروائی بھی کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان دونوں کے خلاف اس طرح کے مقدمات چلائے جانے چاہئیں جن سے دوسروں کو عبرت ہو اور وہ مستقبل میں اپنی بیہودہ زبان کھولنے سے پہلے سوچنے پر مجبور ہوجائیں۔ یہ معاملہ مذہبی جذبات کا ہے اور اس پر کسی طرح کا سمجھوتہ ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ اس لئے دوسروں کیلئے عبرت بنانے ان دونوں کے خلاف قانونی سطح پر سخت ترین کارروائی کا حکم بھی دیا جانا چاہئے ۔
جس طرح ہندو دیوی دیوتاؤں کی توہین کرنے پر بی جے پی کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی جاتی ہے ‘ تشدد برپا کیا جاتا ہے ‘ قتل و خون سے بھی گریز نہیں کیا جاتا اس کے برخلاف مسلمانوں نے اس انتہائی جذباتی معاملہ میں بھی صبر و تحمل سے کام لیا ہے ۔ حکومت اور تحقیقاتی ایجنسیوں کو اس کی سنگینی کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور محض دکھاوے کیلئے یا ضابطہ کی تکمیل کیلئے اقدامات کرنے کی بجائے حقیقی اور ٹھوس کارروائی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک مثال قائم ہوجائے اور ملک میں نراج کی کیفیت پیدا کرنے والے ان عناصر کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہونچایا جائے ۔