گنڈی پیٹ کے علاقہ میں درختوں کی کٹوائی پر ہائی کورٹ کا حکم التواء

   

درختوں کی منتقلی کیلئے این جی او کی درخواست پر غور کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے گنڈی پیٹ کے علاقہ میں سڑک کی توسیع کیلئے244 درختوں کی کٹوائی پر حکم التواء جاری کرتے ہوئے سرکاری اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ درختوں کی منتقلی کے سلسلہ میں غیر سرکاری تنظیم کی نمائندگی پر غور کریں۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس ابھیشک ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے عبوری فیصلہ سناتے ہوئے محکمہ آر اینڈ بی اور محکمہ جنگلات کو ہدایت دی کہ وہ غیر سرکاری تنظیم اور فاونڈیشن کی جانب سے داخل کی گئی نمائندگی کا جائزہ لیں۔ حکومت نے محکمہ آر اینڈ بی اور جنگلات کو سڑک کی توسیع کی ذمہ داری ہے جس کے تحت 244 درختوں کی کٹوائی کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ ایک کیلو میٹر کے حدود میں یہ درخت موجود ہیں جن کی کٹوائی کے ذریعہ سڑک کی توسیع کا کام انجام دیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ سڑک کی دونوں جانب جملہ 286 درخت ہیں جن میں سے 244 کی کٹوائی ناگزیر ہے۔ غیر سرکاری ادارہ نے حکومت کو پیشکش کی ہے کہ وہ اپنے خرچ پر درختوں کی کٹوائی کے بجائے انہیں دوسرے مقام پر منتقل کریں گے۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو این جی او کی درخواست پر اندرون ایک ہفتہ فیصلہ کرنے کی ہدایت دی۔ اس وقت تک درختوں کی کٹوائی پر حکم التواء جاری کردیا گیا۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت 14 جون کو ہوگی۔