ذخیرہ آب لبریز ۔ حمایت ساگر کے دروازے بھی کھولے جانے کا امکان
حیدرآباد۔27ستمبر(سیاست نیوز) عثمان ساگر ذخیرہ ٔ آب کے لبریز ہونے کے سبب محکمہ آبرسانی نے عثمان ساگر (گنڈی پیٹ ) کے چار دروازوں کو کھول گیا ہے اور موسیٰ ندی میں پانی کے اخراج کے سلسلہ میں اقدامات کئے جانے لگے ہیں۔ تلنگانہ میں ’گلاب‘ طوفان کے اثرات اور بارش کے سبب گنڈی پیٹ میں پانی کے جمع ہونے کی رفتار میں تیزی آئی او ر مکمل سطح آب 1790 فیٹ کے قریب 1789.90 فیٹ تک پانی جمع ہونے کے بعد پانی کے اخراج کا فیصلہ کیا گیا۔عثمان ساگر سے پانی کے اخراج کے ساتھ ہی موسیٰ ندی میں پانی کا تیز بہاؤ دیکھا جانے لگا ہے ۔محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں نے بتایا کہ عثمان ساگر(گنڈی پیٹ)کی گنجائش 3.90ٹی ایم سی پانی جمع کرنے کی ہے اور فی الحال گنڈی پیٹ میں 3.87 ٹی ایم سی پانی جمع ہوچکا ہے اور اس کے بعد نشیبی علاقوں اور رود موسیٰ کے کناروں پر آباد بستیوں میں اعلان کے بعد عثمان ساگر کے 2 دروازوں کو کھول دیا گیا ۔ پانی کے جمع ہونے کی رفتار میں اضافہ کی صورت میں مزید دروازے کھولے جانے کا امکان ہے۔اسی طرح حمایت ساگر میں بھی پانی جمع ہونے کی رفتار میں تیزی آئی ہے اور حمایت ساگر میں بھی پانی خطرہ کے نشان کے قریب پہنچ چکا ہے ۔حمایت ساگر کی مکمل سطح آب 1763.50 فیٹ ہے اور فی الحال حمایت ساگر میں 1763.25فیٹ پانی جمع ہے ۔ عہدیدارو ںنے بتایا کہ حمایت ساگر اور عثمان ساگر میں پانی کی رفتار کو دیکھتے ہوئے دروازوں کو کھولنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔حمایت ساگر میں 2.97 ٹی ایم سی پانی کی گنجائش ہے اور حمایت ساگر میں اب 2.87 ٹی ایم سی پانی جمع ہوچکا ہے ۔ عہدیدار دونوں ذخائر آب میں پانی کی سطح پر نظر رکھے ہوئے ہیںاور خطرہ کے نشان کے علاوہ موسیٰ ندی میں پانی کے اخراج کا جائزہ لیاجارہا ہے ۔ کہا جار ہاہے کہ دونوں ذخائر آب سے یکساں پانی کے اخراج کی صورت میں محکمہ آبرسانی دیگر متعلقہ محکمہ جات کے تعاون سے چوکسی اختیار کی جائے گی۔م