گورنر میگھالیہ کے انکشافات

   

Ferty9 Clinic

جانے ان پر گذر گئی کیا کیا
اور ہم حالِ دل سناتے رہے
گورنر میگھالیہ ستیہ پال ملک نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ملک کے کسانوں کے تئیں رویہ کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہٹ دھرمی والا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ گورنر کا یہ انکشاف حکومت کے دعووں کی اور خاص طور پر وزیر اعظم کے دعووں کی قلعی کھولنے والا کہا جاسکتا ہے ۔ وزیر اعظم نے ملک کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تین متنازعہ زرعی قوانین سے دستبرداری کا جو اعلان کیا تھا اس وقت انہوں نے کسانوں نے حد درجہ ہمدردی کا دکھاوا کیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے کسان بھائیوں کو اپنی بات سمجھانے میں ناکام رہے ہیں۔ تاہم سارا ملک جانتا ہے کہ انہوں نے کسانوں کے ساتھ ایک سال تک کیا رویہ اختیار کیا ہوا تھا اور اپنے زر خرید ٹی وی اینکروں کے ذریعہ کسانوں کو بدنام و رسواء کرنے کی کتنی کوششیں کی تھیں۔ کسانوں کو خالصتانی قرار دیا گیا ‘ بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر کام کرنے والے قرار دیا گیا ‘ موالی قرار دیا گیا ‘ اربن نکسل قرار دیا گیا ۔ اس سب کے باوجود کسان اپنے احتجاج پر ڈٹے رہے اور ان کے آگے حکومت کو گھٹنے ٹیکنا پڑا تھا ۔ تاہم اب گورنر میگھالیہ نے جو انکشاف کیا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ ستیہ پال ملک نے کہا کہ جب وہ کسانوں کے مسئلہ پر وزیر اعظم سے ملاقات کرنے گئے تو اندرون پانچ منٹ ان کی بحث ہوگئی ۔ جب ستیہ پال ملک نے کہا کہ 500 کسان اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں تو وزیر اعظم نے سوال کیا کہ ’’ کیا یہ کسان میرے لئے مرے ہیں ‘‘ ۔ وزیر اعظم نے ان کی بات پوری نہیں سنی اور امیت شاہ سے ملاقات کرنے کو کہا ۔ جب امیت شاہ سے ملاقات کی تو امیت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔ ستیہ پال ملک کے یہ انکشافات حیرت انگیز ہیں اور اس سے حکومت کے اندرونی حلقوں میں جو صورتحال پیدا ہوگئیہ ے اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ ساتھ ہی بھی یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ حکومت کے دو ذمہ داروں کے درمیان ایک دوسرے کے خیال سے بھی اتفاق نہیں پایا جاتا ۔ یہ صورتحال شائد پہلی مرتبہ ملک کے عوام کے سامنے آئی ہے اور یہ انتہائی افسوسناک ہی کہی جاسکتی ہے ۔
اب گورنر میگھالیہ کی جانب سے یہ وضاحت بھی کی جا رہی ہے کہ امیت شاہ نے وزیر اعظم کی کوئی توہین یا ہتک نہیں کی ہے اور وہ ان کا بہت احترام کرتے ہیں۔ یہ وضاحت حالانکہ چند گھنٹو ں میں کی گئی ہے لیکن اس وقت تک سابقہ انکشافات سے جو کچھ تاثر عام ہونا تھا وہ ہوچکا تھا ۔ امیت شاہ نے وزیر اعظم کے تعلق سے کیا کچھ کہا ہے وہ ایک الگ بات ہے لیکن ملک کے کسانوں کے تعلق سے وزیر اعظم کا جو ریمارک ہے وہ انتہائی افسوسناک کہا جاسکتا ہے ۔ ملک میں سینکڑوں کسانوں نے اپنے مطالبات منوانے کیلئے ایک سال سے زائد عرصہ تک کئے گئے احتجاج کے دوران اپنی جانیں گنوا دی ہیں۔ یہ قانون خود مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا اور اسے منظوری دلائی تھی ۔ جب ایک ریاست کے گورنر نے اس مسئلہ پر ان سے نمائندگی کی تو ان سے سنجیدگی سے بات کرنے اور مسئلہ کی یکسوئی کی کوشش کرنے کی بجائے وزیر اعظم کا یہ ریمارک کرنا کہ ’’ کیا یہ کسان میری وجہ سے سے مرے ہیں ‘‘ انتہائی افسوسناک ہے ۔ اس سے وزیر اعظم کی بے حسی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ کسان احتجاج کو ایک سال سے زیادہ عرصہ تک کامیابی سے جاری رکھا گیا تھا جس کے نتیجہ میں حکومت نے محض اپنے انتخابی امکانات کو متاثر ہو نے سے بچانے کیلئے زرعی قوانین سے دستبرداری اختیار کی تھی اور بعد میں خود مودی حکومت کے وزراء نے ادعا کیا ہے کہ کسان قوانین فی الحال بھلے ہی واپس لئے گئے ہوں انہیں دوبارہ پارلیمنٹ میں پیش کرتے ہوئے منظوری دلائی جائے گی ۔
ستیہ مال ملک کے انٹرویو کے ویڈیوز سارے ملک میں وائرل ہوگئے ہیں اور اس کے نتیجہ میں حکومت کا امیج متاثر ہوا ہے ۔ کسانوں کے تعلق سے حکومت نے ایک سال کے دوران جو کچھ بھی رویہ اختیار کیا تھا اور جس طرح کسان احتجاج کو رسواء کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں ان کو دیکھتے ہوئے ان ریمارکس کی سنگینی بہت زیادہ ہوجاتی ہے ۔ اس مسئلہ پر وزیر اعظم کو از خود وضاحت کرنے کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعظم بھی ملک کے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں ۔ انہیں یہ واضح کرنا چاہئے کہ ان کے ریمارکس کس تناظر میں تھے اور کسانوں کے تعلق سے حکومت کا حقیقی معنوں میں رویہ اور موقف کیا ہے اور اسے کس طرح سمجھا جانا چاہئے ۔