گورنر کا خطبہ مایوس کن ، کانگریس منشور کی کاپی

   

تلنگانہ ابھی آزاد ہونے کا ریمارکس قابل اعتراض : کڈیم سری ہری
حیدرآباد ۔ 15 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے رکن اسمبلی کڈیم سری ہری نے گورنر کے خطبہ کو مایوس کن اور کانگریس منشور کی کاپی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے 6 گیارنٹی پر کوئی روڈ میاپ کا اعلان نہیں کیا گیا ۔ ساتھ ہی تلنگانہ آزاد ہونے کا ریمارکس کرنے پر بھی سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت نے گورنر کو جھوٹ بولنے کے لیے مجبور کیا ہے ۔ آج اسمبلی کے میڈیا پوائنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کڈیم سری ہری نے کہا کہ گورنر تمیلی سائی سوندرا راجن نے آج دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا ہے جس سے عوام کو کئی امیدیں وابستہ تھیں عوام توقع کررہے تھے کہ انتخابات میں کانگریس پارٹی نے جو وعدے کئے ہیں اس پر عمل آوری کرنے کا گورنر کے خطبہ میں روڈ میاپ دیکھنے کو ملے گا ۔ مگر گورنر کا خطبہ مایوس کن رہا ہے ۔ گورنر نے تلنگانہ آزاد ہوجانے کا ریمارکس کیا ہے جو قابل اعتراض اور مضحکہ خیز ہے ۔ کے سی آر کی قیادت میں جدوجہد کرتے ہوئے 2014 میں علحدہ تلنگانہ ریاست قائم کرلی گئی ہے ۔ مگر اب آزاد ہونے کا جو ریمارکس کیا گیا ہے وہ گورنر کو زیب نہیں دیتا ۔ گورنر کا خطبہ حکومت کی پالیسیوں کی عکاسی ہوتا ہے ۔ ریاست کی ترقی اور عوام کے فلاح کا کوئی روڈ میاپ جاری نہیں کیا گیا ۔ ریتو بندھو ، دلت بندھو ، دھان پر 500 روپئے بونس کا خطبہ میں کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ سارے خطبہ میں صرف بی آر ایس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ کے سی آر کی قیادت میں تلنگانہ کی ترقی ملک کے لیے رول ماڈل ثابت ہوئی ہے ۔ ہر شعبہ نے ترقی کی ہے ۔ مرکزی حکومت نے ایوارڈس پیش کرتے ہوئے اس کی ستائش کی ہے ۔ مگر گورنر نے ان انعامات و اعزازات کو فراموش کردیا ہے ۔ 10 سال میں تلنگانہ دھان کی پیداوار میں ملک بھر میں سرفہرست ہوگیا ہے ۔ 24 گھنٹے معیاری برقی سربراہ کی گئی ہے ۔ فی کس آمدنی کے معاملے میں بھی تلنگانہ سارے ملک میں سرفہرست رہا ہے ۔ آئی ٹی کے فروغ شہری و دیہی علاقوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی سرسبز و شاداب کے فروغ کو گورنر نے یکسر نظر انداز کردیا ہے ۔۔ ن