گورنر کوٹہ کونسل نشستوں پر نامزدگی سے ٹی آر ایس میں بے چینی

   

مسلم اور ریڈی طبقہ نظر انداز، کے پربھاکر کو دوسری میعاد نہ ملنا باعث حیرت
حیدرآباد۔ قانون ساز کونسل گورنر کوٹہ کی 3 نشستوں پر نامزدگی کے بعد برسراقتدار پارٹی میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ کونسل میں کم نمائندگی رکھنے والے طبقات کی بنیاد پر چیف منسٹر نے دھوبی اور ویشیا کمیونٹی کے قائدین کو نامزد کیا ہے۔ اس کے علاوہ تلنگانہ تحریک میں انقلابی گیت لکھنے والے ایک شاعر کو کونسل کی رکنیت دی گئی ہے۔ کونسل میں ریڈی، بی سی اور ایس ٹی طبقہ کو نظرانداز کرنے پر قائدین میں ناراضگی ہے۔ توقع تھی کہ تین نشستوں میں کم از کم ایک مسلمان کو نمائندگی دی جائے گی کیونکہ گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کو اقلیتوں کے ووٹ حاصل کرنے میں یہ فیصلہ معاون ثابت ہوسکتا تھا لیکن کے سی آر نے کسی مسلمان کا نام تجویز نہیں کیا۔ پارٹی میں پہلے سے تین مسلم ارکان کونسل ہیں جبکہ ایک رکن اسمبلی ہے۔ گذشتہ 6 برسوں میں پارٹی کے کئی سینئر اقلیتی قائدین عہدوں سے محروم رہے اور ایسے کئی قائدین جو تحریک میں اہم رول ادا کرچکے ہیں انہیں کونسل کی رکنیت کی امید تھی۔ حال میں کئی اداروں کے مسلم صدورنشین کی میعاد ختم ہوگئی اور بعض کی میعاد ایک ماہ بعد ختم ہوجائے گی ایسے میں اگر کونسل میں مسلمان کو نمائندگی دی جاتی تو اقلیتوں میں بہتر پیام جاسکتا تھا۔ دوسری طرف ریڈی طبقہ کی جانب سے ایک نشست کیلئے چیف منسٹر پر دباؤ تھا۔ اسمبلی انتخابات میں شکست سے دوچار ریڈی طبقہ کے بعض قائدین نشست کیلئے دوڑ میں تھے۔ چیف منسٹر نے غیر متوقع طور پر اپنے بااعتماد رفیق کے پربھاکر کو دوسری مرتبہ نامزد نہیں کیا ہے۔ پربھاکر کا شمار چیف منسٹر کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے

اور پہلی میعاد میں انہوں نے پارٹی کی کونسل اور اسکے باہر بہتر نمائندگی کی تھی۔ پارٹی حلقوں میں یقین تھا کہ پربھاکر کو دوسری میعاد کیلئے نامزد کیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر انہیں کارپوریشن کا صدرنشین مقرر کرسکتے ہیں۔ جن 3 نشستوں پر نئے ارکان کو نامزد کیا گیا وہ سابق وزیر داخلہ آنجہانی این نرسمہا ریڈی، کے پربھاکر اور ٹی آر ایس سے کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد نااہل قرار دیئے گئے راملو نائیک کی ہیں۔ این نرسمہا ریڈی ناسازی مزاج تک بھی کونسل کی دوسری میعاد کیلئے مساعی کرتے رہے۔ ان کے دیہانت کے بعد چیف منسٹر کو اس نشست پر دوسروں کو نامزد کرنے کا راستہ ہموار ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی کے ایس ٹی اور ریڈی طبقہ کے قائدین تینوں نامزدگیوں سے خوش نہیں ہیں۔ چیف منسٹر نے جن نئے چہروں کو نامزد کیا ہے اس میں 2 کا تعلق بی سی اور ایک کا اعلیٰ طبقہ سے ہے۔ تلگو شاعر وینکنا نے علحدہ تلنگانہ تحریک میں دیہی علاقوں میں اہم رول ادا کیا تھا۔ وہ سب ڈیویژنل کوآپریٹیو آفیسر کے عہدہ پر فائز تھے۔ سابق وزیر بسوا راج ساریا کا تعلق بی سی طبقہ سے ہے اور وہ دھوبی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ متحدہ آندھرا پردیش میں 2012 اور 2014 کے درمیان ریاستی وزیر رہے۔ چیف منسٹر نے آریا ویشیا کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے بی دیانند کو کونسل کیلئے نامزد کیا ہے۔ ٹی آر ایس کے کئی قائدین کیلئے تینوں نام غیر متوقع رہے اور پارٹی میں مختلف تبصرے کئے جارہے ہیں۔