گوہاٹی ہائی کورٹ نے دھماکہ کیس میں چھ مجرموں کو بری کردیا

   

گوہاٹی: گوہاٹی ہائی کورٹ نے جمعرات کو آسام کی ایک عدالت کے 2019 کے فیصلے کو پلٹ دیا اور 2004 کے یوم آزادی دھیماجی بم دھماکہ کیس میں تمام 6 مجرموں کو تمام الزامات سے بری کردیا۔ دھیماجی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے جولائی 2019 میں چھ افراد کو قصوروار پایا تھا ۔ ان میں سے چار کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، جب کہ دو کو 4 سال کی سخت قید کی سزا سنائی گئی تھی۔جمعرات کو ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے 2019 کے فیصلے کو یہ دیکھنے کے بعد پلٹ دیا کہ سزا یافتہ افراد کے خلاف کافی ثبوت پیش نہیں کیے گئے تھے۔ 15اگست 2004 کو دھیماجی میں یوم آزادی کی تقریبات کے دوران ایک بم دھماکہ ہوا جس میں 14 اسکولی بچوں سمیت 18 افراد ہلاک اور کم ازکم 40 دیگر شدید زخمی ہوگئے تھے۔کالعدم عسکریت پسند تنظیم یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور کچھ ہی عرصے میں پولیس نے کم ازکم 14 افراد کو گرفتارکر لیا تھا۔
 پولیس نے ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے)، تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 120 بی، جو مجرمانہ سازش، آئی پی سی کی دفعہ 302 اور دیگر دفعات سے متعلق ہے، کے تحت مقدمات درج کئے۔ کئی سیشنوں کے بعد، دھیماجی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے طے کیا کہ 14 میں سے چھ ملزمان دھماکے اور متعدد ہلاکتوں کے مجرم تھے۔ دیپانجلی برہگوہین، موہی ہانڈیک، جتن ڈوبوری، اور لیلا گوگوئی کو قید تنہائی کی عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ ان میں سے ہر ایک کو 10ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کو کہا گیا۔ سازش میں ان کے کردار کے لیے، دیگر دو افراد، پرشانتا بھویان اور ہیمن گوگوئی کو چار سال کی قید اور 2000 روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ ضلعی عدالت نے دیگر آٹھ ملزمین مینو بورہ، جویا چٹیا، جتن چوٹیا، اپسرا بورا، گووند کلیتا، جے چندر چٹیا، چندر ناتھ گوگوئی، اور موہن چوٹیا کو تمام الزامات سے بری کردیا۔ بعد میں مجرموں نے گوہاٹی ہائی کورٹ میں نچلی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے ایک عرضی دائر کی۔