400 ایکر سرکاری اراضی کا دعویٰ، مہیش کمار گوڑ نے دستاویزات عوام کیلئے جاری کئے
حیدرآباد ۔ یکم اپریل (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی سے متصل اراضی کے تنازعہ کے لئے اپوزیشن کو ذمہ دار قرار دیا اور کہاکہ طلبہ کو گمراہ کن معلومات کے ذریعہ احتجاج پر اُکسایا جارہا ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے دستاویزات کے ذریعہ یہ دعویٰ کیاکہ 400 ایکر اراضی دراصل سرکاری ہے اور یونیورسٹی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ چندرابابو نائیڈو نے یہ اراضی ایک خانگی کمپنی کے حوالہ کی تھی اور وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت نے الاٹمنٹ کو منسوخ کردیا تھا۔ خانگی کمپنی حکومت کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی اور 21 سال تک قانونی کشاکش کے بعد تلنگانہ حکومت کو کامیابی حاصل ہوئی۔ مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ اراضی پر حکومت کی جانب سے جبراً قبضہ کا الزام بے بنیاد ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ عدالت میں مقدمہ کے سبب حکومت نے اراضی کا کنٹرول حاصل نہیں کیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت کے حق میں عدالت کے فیصلہ کے بعد یہ اراضی حکومت اپنی تحویل میں لے رہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یونیورسٹی کے طلبہ کو اپوزیشن کی جانب سے مشتعل کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے بی آر ایس اور بی جے پی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ طلبہ کو سیاسی اغراض کے لئے استعمال کرنے سے گریز کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ 400 ایکر اراضی کبھی بھی یونیورسٹی کے تحت نہیں رہی۔ مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ صنعتی ترقی کے ذریعہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے مقصد سے حکومت نے انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے ذریعہ فروخت کا فیصلہ کیا ہے۔ اُنھوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپوزیشن کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ مہیش کمار گوڑ نے اراضی سے متعلق دستاویزات میڈیا کے لئے جاری کئے جس میں بتایا گیا ہے کہ اِس اراضی پر یونیورسٹی نے کبھی بھی اپنی دعویداری پیش نہیں کی۔ اُنھوں نے کہاکہ ترقیاتی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرتے ہوئے بی آر ایس اور بی جے پی عوام کے ساتھ ناانصافی کررہے ہیں۔1