گچی باؤلی اراضی پر صفائی کے کام روکنے تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہدایت

,

   

مفاد عامہ کی درخواستیں قبول، آج دوبارہ سماعت ہوگی

حیدرآباد۔/2 اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے کنچہ گچی باؤلی کی 400 ایکر اراضی سے متعلق مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اراضی پر جاری صفائی کے کاموں کو کل 3 اپریل تک روکنے کی ہدایت دی اور سماعت کو کل تک کیلئے ملتوی کردیا۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی سے متصل 400 ایکر اراضی کو سرکاری قرار دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے صفائی کے کاموں کے آغاز کے خلاف ایک خانگی ادارہ نے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست دائر کی۔ کارگذار چیف جسٹس سوجئے پال کی زیر قیادت بنچ نے آج درخواست گذار کے وکیل کے دلائل کی سماعت کی۔ مباحث کی سماعت کے بعد عدالت نے اراضی پر جاری کاموں کو 3 اپریل تک روکنے کی ہدایت دی اور کہا کہ اس معاملہ کی سماعت جمعرات کو بھی جاری رہے گی۔ خانگی ادارہ کے علاوہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے بھی عدالت میں درخواست داخل کرتے ہوئے اراضی کے تحفظ کی درخواست کی گئی۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی جانب سے ایڈوکیٹ ایل روی شنکر نے بحث کی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال جون میں ریاستی حکومت نے جی او 54 جاری کیا جس کے تحت 400 ایکر اراضی سرکاری ادارہ تلنگانہ انڈسٹریل انفرااسٹرکچر کارپوریشن کو الاٹ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اراضی کے سرکاری ہونے کی صورت میں بھی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت کارروائی کرے۔ کنچہ گچی باؤلی کی اراضی پر موجود درختوں کی صفائی کیلئے بڑی مشینوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق جنگلاتی علاقہ کا تحفظ کیا جانا چاہیئے۔ ماہرین کی کمیٹی نے جنگلاتی اراضی کے تحفظ کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے علاقے جہاں جنگلی جانور رہتے ہیں وہاں اراضی کی صفائی سے قبل ماہرین کی کمیٹی کا دورہ ناگزیر ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اراضی پر تین مختلف جھیلیں ہیں اور پہاڑی علاقہ موجود ہے اور جنگلاتی علاقہ میں کئی جنگلی جانور موجود ہیں۔ یونیورسٹی کے وکیل نے جنگلاتی علاقہ کے تحفظ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری عہدیدار رہنمایانہ خطوط کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور صفائی کے کاموں کے سبب علاقے میں ماحول کشیدہ ہوچکا ہے۔ ہائی کورٹ نے صفائی کے کام روکنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت کو کل تک کیلئے ملتوی کردیا۔1