گھروں سے کچرا وصولی کی رقم میں 50 روپیوں کا اضافہ

   

آٹو رکشا ڈرائیورس سے رقم وصولی کی کوئی رسید نہیں ، بلدیہ کے فیصلہ کے بعد سوشیل میڈیا پر ردعمل
حیدرآباد۔17۔مئی ۔(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں کچرا گھر سے وصول کرنے والی گاڑیوں کی جانب سے وصول کئے جانے والے ماہانہ 50 روپئے میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 100 روپئے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے گھروں سے کچہرا اٹھانے کے لئے جو آٹو حوالہ کئے گئے ہیں وہ اب تک ماہانہ 50 روپئے فی مکان وصول کیا کرتے تھے لیکن اب انہیں ماہانہ 100 روپئے وصول کرنے کا اختیار دیا جاچکا ہے۔ گذشتہ یوم جی ایچ ایم سی کی جانب سے جاری کئے گئے ان احکامات کے سلسلہ میں سوشل میڈیا پر زبردست بحث شروع ہوچکی ہے۔ کچرا حاصل کرنے والے ان آٹو رکشا ڈرائیورس کی جانب سے وصول کی جانے والی رقم کی کوئی رسید نہیں دی جاتی اور نہ ہی جن گھروں سے یہ رقومات وصول کی جاتی ہیں ان کے پاس کوئی ثبوت ہوتا ہے۔ دونوں شہروں میں 50روپئے ماہانہ وصول کرنے والے آٹورکشا کی تعداد کتنی ہے اور وہ کتنے مکانات سے یہ رقم وصول کر رہے ہیں اس کے متعلق جی ایچ ایم سی کے عہدیدار بھی لاعلم ہیں۔ علاوہ ازیں 50روپئے ہو یا 100 روپئے یہ رقم جو بھی بغیر کسی رسید کے وصول کی جارہی ہے اس یہ مکمل طور پر کالے دھن میں شمار کی جاتی ہے کیونکہ فی مکان اگر کوئی 100 روپئے ماہانہ دے رہا ہے تو ایک گھر والے کے لئے یہ محض 100 روپئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر جملہ وصولی کا اگر جائزہ لیا جائے تو دونوں شہروں سے کروڑہا روپئے بغیر کسی رسید کے شہریوں سے وصول کئے جا رہے ہیں اور وصول کی گئی رقم پر کسی بھی طرح کا کوئی ٹیکس بھی ادا نہیں کیا جار ہاہے ۔ مئیر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اسٹینڈنگ کمیٹی کے اس اجلاس میں مئیر جی ایچ ایم سی مسز گدوال وجیہ لکشمی نے گھروں سے ماہانہ 100 روپئے کی وصولی کو منظوری تو دے دی ہے لیکن اس وصولی کے بعد رسید کی اجرائی کے سلسلہ میں پابند بنانے کے کوئی احکام جاری نہیں کئے گئے ۔مرکزی و ریاستی حکومت کے مختلف محکمہ جات کے قوانین کے مطابق بغیر رسید کے وصول کی جانے والی رقومات کو کالے دھن میں شمار کیا جاتا ہے اور ان رقومات کی وصولی کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے اسی لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اگر کچرے کی وصولی کرنے والوں کو وصولی کی اجازت دیتی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ رقم ادا کرنے والوں کو رسید جاری کرنے کی بھی ہدایات جاری کرے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ جملہ کتنی رقم وصول ہورہی ہے!۔م