ایڈوکیٹ اسوسی ایشن کا اجلاس، چیف جسٹس آف انڈیا اور وزیر قانون سے نمائندگی کا فیصلہ
حیدرآباد ۔30 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ ایڈوکیٹس اسوسی ایشن نے ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے ہائی کورٹ کالجیم سے درخواست کی ہے کہ ججس کے طور پر تقررات کیلئے جن ناموں کی سفارش کی گئی انہیں واپس طلب کیا جائے۔ اسوسی ایشن نے سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت سے اس معاملہ میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ایڈوکیٹ اسوسی ایشن کی شکایت ہے کہ ہائی کورٹ کالجیم میں ججس کے طور پر جن ناموں کی سفارش کی ہے، اس بارے میں اسوسی ایشن سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی ۔ اسوسی ایشن نے یاد دلایا کہ مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزیر قانون کرن رجیجو نے کالجیم کے موجودہ سسٹم میں شفافیت کی کمی کی شکایت کی ہے ۔ اسوسی ایشن نے ہائی کورٹ کالجیم کی جانب سے کی گئی ناموں کی سفارش کا تفصیلی جائزہ لیا ۔ اسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کالجیم نے بار کونسل کو اعتماد میں لئے بغیر ناموں کی سفارش کی ہے۔ کالجیم کو چاہئے تھاکہ وہ مقامی وکلاء کو ترجیح دیتی لیکن جن ناموں کی سفارش کی گئی ، اس میں سماجی انصاف کا خیال نہیں رکھا گیا ہے۔ اسوسی ایشن کے صدر وی رگھوناتھ نے کہا کہ ہم عنقریب چیف جسٹس آف انڈیا اور وزیر قانون حکومت ہند سے نمائندگی کریں گے۔ اسوسی ایشن کی جانب سے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہائیکورٹ کالجیم نے ججس کے طورپر تقررات کیلئے جن پانچ ناموں کی سفارش کی ہے ، ان میں آندھراپردیش کی ایک خاتون ایڈوکیٹ کا نام شامل ہے جو تلنگانہ بار کونسل میں رجسٹر نہیں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائی کورٹ نے جن پانچ ناموں کی سفارش کی ہے ، ان میں ایک خاتون کے علاوہ ایک مسلم اور ایک بی سی ایڈوکیٹ شامل ہیں۔ر