ہاسٹلس اور اقامتی اسکولوں میں بنیادی سہولتوں پر ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کی

   

حیدرآباد 20 فبروری (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ نے سرکاری ہاسٹلس اور اقامتی اسکولوں میں طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولتوں پر میں حکومت سے رپورٹ طلب کی۔ کارگذار چیف جسٹس سجئے پال اور جسٹس وائی رینوکا پر مشتمل بنچ نے مفاد عامہ درخواست کی سماعت کرکے یہ ہدایت دی۔ درخواست میں شکایت کی گئی ہے کہ سرکاری ہاسٹلس اور اقامتی اداروں میں بنیادوں سہولتوں کی کمی ہے۔ باتھ روم، ٹائیلٹس کے علاوہ صاف پینے کے پانی کی فراہمی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ درخواست گذار نے کہاکہ نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائیلڈ رائٹس کے رہنمایانہ خطوط کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ درخواست گذار نے 644 باتھ رومس، 1758 ٹائیلٹس اور 258 وارڈنس کی کمی کی نشاندہی کی۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے تفصیلات سے واقف کرایا۔ تاہم درخواست گذار کے وکیل نے حکومت کی جانب سے سہولتوں کی فراہمی کی شکایت کی۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے رپورٹ کی پیشکشی کے لئے 2 ہفتوں کا وقت مانگا جسے عدالت نے منظور کرلیا۔ 1