بی جے پی نعرہ کی نقل محض اتفاق یا منصوبہ بند حکمت عملی، سوشیل میڈیا پر بی جے پی کی ’بی ٹیم ‘ سے متعلق قیاس آرائیاں و سوالات
حیدرآباد۔/5 نومبر،( سیاست نیوز) کسی بھی شخص یا پھر پارٹی سے قربت اور عقیدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مذکورہ پارٹی یا شخصیت کے طریقہ کار اور اس کی چال ڈھال کو اختیار کیا جاتا ہے۔ نوجوان نسل اپنی پسند کے فلمی ہیروز اور کرکٹ کھلاڑیوں کی نقل کرکے خود کو ان کی طرح دکھانے کی کوشش کرتی ہے اسی طرح سیاسی پارٹیاں بھی اپنی قریبی پارٹیوں کی حکمت عملی اور انتخابی ایکشن پلان کو اختیار کرکے ووٹرس میں بے نقاب ہوجاتی ہیں۔ عام طور پر سیاسی اور انتخابی نعروں کے معاملہ میں سیاسی جماعتوں کی قربت اور دوستی کا اظہار ہوتا ہے۔ تلنگانہ چناؤ کی مہم میں کانگریس مجلس کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دے رہی ہے جبکہ عام رائے دہندے بھی یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ مقامی جماعت کی قومی سطح پر انتخابی پالیسی بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کی خاموش کوشش ہے۔ بی جے پی نے ملک بھر میں وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت کو ووٹ میں تبدیل کرنے ’گھر گھر مودی، ہر گھر مودی‘ کا نعرہ لگایا جو بی جے پی کے کارکنوں کی زبان پر آچکا ہے۔ حیدرآباد کی انتخابی مہم میں مقامی سیاسی پارٹی مجلس نے ’ ہر گھر مجلس، گھر گھر مجلس‘ کا نعرہ لگایا ہے اور انتخابی مہم میں اس نعرہ کی زبردست تشہیر کی جارہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نعرہ میں مماثلت محض سیاسی اتفاق ہے یا پھر سوچی سمجھی منصوبہ بندی۔ عام طور پر جب کسی شخص یا پارٹی سے نظریاتی اختلاف ہو تو اس کی کسی بھی چیز کو اختیار نہیں کیا جاتا لیکن حیدرآباد میں مقامی جماعت کے نعرہ نے عوام کے ذہنوں میں کئی سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ اسٹیج سے بی جے پی و مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن انتخابی مہم کیلئے بی جے پی اور مودی کے نعرہ کی نقل کی جارہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ نعرہ دراصل بڑی جماعت سے دیا گیا ہو تاکہ اکثریتی ووٹرس میں یہ پیام غیر محسوس طریقہ سے پہنچادیا جائے کہ دونوں آپس میں ایک اے اور بی ٹیم ہیں۔ سوشیل میڈیا پر بی جے پی اور مجلس کے نعروں میں یکسانیت پر عوام کی جانب سے مختلف تبصرے کئے جارہے ہیں جبکہ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور مجلس نے اپنی دوستی کو ایک ہی نعرہ کے ساتھ ثابت کردیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انتخابی مہم کے نعرہ کیلئے بی جے پی کی نقل کیوں۔ دیگر سیکولر پارٹیوں کے پاس بھی کئی دلکش نعرے موجود ہیں لیکن ان کی نقل نہیں کی گئی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ شہر اسمبلی حلقہ جات میں اکثریتی طبقہ کی تائید حاصل کرنے کیلئے یہ نعرہ اختیار کیا گیا ہو۔ نامپلی اسمبلی حلقہ میں پارٹی کی انتخابی مہم میں حصہ لیتے ہوئے یہ نعرہ لگایا گیا۔ چونکہ نامپلی میں اکثریتی طبقہ کے رائے دہندوں کی تعداد زیادہ ہے لہذااکثریتی طبقہ کے ووٹ کو کانگریس کی طرف منتقل ہونے سے روکنے کیلئے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت یکساں قسم کے نعروںکا انتخاب کیاگیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی جماعت کے ترجمان اخبار نے بھی بی جے پی سے مماثلت رکھنے والے اس نعرہ کی خوب تشہیر کی ہے اور اسے پارٹی صدر کے انتخابی دورہ کی خبر کی سرخی بنایا ہے۔