جنیوا: کورونا وائرس کی دوسری لہر کے بحران کی رفتار پر قابو پانے کیلئے زیادہ تر ریاستوں میں لاک ڈاؤن جاری ہے۔ ایسے میں بڑی تعداد میں کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو کورونا وائرس سے بچانے کیلئے ورک فرم ہوم (WFH) کی سہولت دے دی ہے۔ حالانکہ دفتر میں جہاں زیادہ تر ملازمین چھ سے آٹھ گھنٹے کی شفٹ کرتے تھے اب اُنہیں تقریبا دو گنے وقت تک کام کرنا پڑ رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا اس پر کہنا ہے کہ زیادہ وقت تک کام کرنا صحت کیلئے شدید خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سائنسدانوں کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ لاکھوں لوگوں کی موت لمبے وقت تک کام کرنے سے ہو رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کام کے طے گھنٹوں سے زیادہ کام کرنے سے ایک سال میں ہزاروں لوگوں کی جان جا رہی ہے۔ اس میں کورونا وبا کے دوران بڑھوتری ہو گئی ہے۔ کووڈ وبا کے دوران والے ملازمین میں زیادہ تناؤ مسلسل بڑھتا رہا ہے۔ ایسے میں وہ اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اگر آپ بھی طویل وقت تک لیپ ٹاپ پر نظریں گڑھائے بیٹھے رہتے ہیں تو آپ بھی اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ طویل وقت تک کام کرنے والوں کی زندگی کو لیکر انوائرنمنٹ انٹرنیشنل جرنل میں شائع دنیا کی پہلی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 2016 ء میں زیادہ دیر تک کام کرنے کے چلتے اسٹروک اور دل کی بیماری کے اعداد و شمار میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے دنیا بھر میں 7.45 لاکھ لوگوں کی جان چلی گئی ہے ۔ یہ تعداد سال 2000 کے مقابلے قریب 30 فیصدی زیادہ تھی۔ عالمی ادارہ صحت کے محکمہ ماحولیات ، آب و ہوا کی تبدیلی اور صحت کی ڈائریکٹر ماریہ نیرا نے کہا کہ ایک تحقیق کے مطابق ہر ہفتے 55 گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرنا صحت کے لئے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کے ثبوت کے ذریعے ہم ان کارکنوں کی زندگیاں بچانا چاہتے ہیں ،جو اب بھی طویل وقت تک کام میں مصروف رہتے ہیں۔ واضح ہو کہ ڈبلیو ایچ او اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی یہ تحقیق 194 ممالک سے جمع کردہ اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ تحقیق میں 2000 سے 2016 تک کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے۔ ریسرچ کا کہنا ہے کہ ہفتے میں 35-40 گھنٹے کام کرنے والے افراد کے مقابلہ میں 55 گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرنے والے 35 فیصد افراد کو اسٹروک کا سامنا کرنا پڑا اور 17 فیصد جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔ طویل موقت تک کام کرنے کے سائیڈ افیکٹ سے چین ، جاپان اور آسٹریلیا کے ملازمین سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ہفتے میں 55 گھنٹے سے زیادہ کام کرنے کی عادت میں سدھار لانا بہت ضروری بتایا ہے۔
