ہل فورٹ پیالیس کی بحالی کیلئے ہائی کورٹ کی حکومت کو ہدایت

   

پرنس معظم جاہ کی تاریخی یادگار مخدوش حالت میں، حکام کی عدم توجہی کا شکار

حیدرآباد۔یکم مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ ہل فورٹ پیالیس بشیر باغ ( رٹز ہوٹل ) کی بحالی اور تزئین نو کے کام کا آغاز کریں۔ چیف جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس ابھینند کمار شاولی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے حیدرآباد ہیرٹیج ٹرسٹ کے دیپک کانت گیر کی جانب سے داخل کردہ مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔ حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ اس ہیرٹیج اسٹرکچر کے تحفظ کے بارے میں حکومت سنجیدہ ہے۔ ریاستی حکومت کے وکیل سنجیو کمار نے بتایا کہ عمارت کی مضبوطی کا جائزہ لینے کیلئے انجینئرس کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی نے حکومت کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے عمارت کی بحالی کی سفارش کی۔ ہائی کورٹ نے حکومت کو بحالی کے کاموں کے آغاز اور 8 اگسٹ تک اس بارے میں پیشرفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ یہ عمارت تلنگانہ اسٹیٹ ٹوریزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے حوالہ کی گئی ہے لیکن گزشتہ طویل عرصہ سے عمارت کے تحفظ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ عمارت میں عام طور پر فلموں کی شوٹنگ کی جاتی رہی۔ حیدرآباد ہیرٹیج ٹرسٹ نے عمارت کی زبوں حالی کا حوالہ دیتے ہوئے اندیشہ ظاہر کیا کہ فوری بحال نہیں کیا گیا تو عمارت منہدم ہوجائے گی۔ سر نظامت جنگ بہادر جو حیدرآباد کے چیف جسٹس تھے انہوں نے 1915 ء میں یہ محل تعمیر کروایا تھا۔ وہ 15 برس تک اس عمارت میں مقیم رہے۔ عمارت کے ڈیزائن کیلئے ترینتی کالج کیمبرج کا نمونہ حاصل کیا گیا تھا۔ بعد میں نواب میر عثمان علی خاں نے 1929 میں اپنے فرزند معظم جاہ بہادر کیلئے یہ عمارت خرید لی۔ معظم جاہ اور ان کی شریک حیات پرنسیس نیلوفر طویل عرصہ تک اس محل میں قیام پذیر رہے۔ آزادی کے بعد یہ عمارت حکومت کے حصہ میں آگئی اور اسے رٹز ہوٹل کو لیز پر دیا گیا۔ لیز کے اختتام کے بعد اسے ٹوریزم ڈپارٹمنٹ کے حوالہ کیا گیا جو اس کا نگرانکار ہے۔ کئی برسوں سے عمارت کے تحفظ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور یہ تاریخ عمارت اب مخدوش ہوچکی ہے۔ر