ہم نے ابو شجاع محمد جابر کو قتل کر دیا، اسرائیل کا دعویٰ

   

تل ابیب : مغربی کنارے میں اپنی دراندازی جاری رکھنے کے بعد اسرائیل نے طولکرم بٹالین کے ابو شجاع کے نام سے معروف کمانڈر “محمد جابر” اور 4 دیگر افراد کے قتل کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرائی نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے کے علاقے طولکرم میں پانچ فلسطینی جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عسکریت پسند نور شمس کیمپ کے علاقے کی ایک مسجد کے اندر چھپے ہوئے تھے۔ محمد جابر پر ان کے دعوے کے مطابق بہت سے دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے اور گزشتہ جون میں شوٹنگ آپریشن کی ہدایت کرنے کا الزام تھا۔ اس شوٹنگ میں اسرائیلی امنون مختار کی ہلاکت ہوئی تھی۔اس کے علاوہ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایک اور فلسطینی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس دوران خصوصی پولیس یونٹ کا ایک اسرائیلی فوجی معمولی زخمی ہوا ہے۔چہارشنبہ کو اسرائیل نے 22 برس میں سب سے بڑے فوجی آپریشن میں جنین، طوباس اور طولکرم میں دراندازی کی مہم شروع کی۔ اس مہم کے دوران کم از کم 30 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 12 فلسطینیوں کو شہید اور 26 کوزخمی کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بنیادی ڈھانچے کو بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ مغربی کنارے پر 1967 سے اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے۔ مغربی کنارے میں ایک سال سے زیادہ عرصے سے تشدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تاہم سات اکتوبر سے غزہ میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے مغربی کنارے میں بھی پر تشدد کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ فلسطینیوں کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر 2023 سے مغربی کنارے میں کم از 640 فلسطینیوں کو اسرائیلی فورسز یا یہودی آباد کاروں نے شہید کر دیا ہے۔