ہم کیا ہمارا پورا خاندان روزنامہ سیاست کا مطالعہ کرتا ہے

   


سیاست اخبار ہی نہیں ملت کا خدمت گذار ، مانو کی عالمی صحافتی کانفرنس کے مہمان سے شہر کے ایک آٹو ڈرائیور کا مکالمہ
حیدرآباد ۔ 17 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ہمارے شہر حیدرآباد و فرخندہ بنیاد کی آن بان شان اس کے وقار ، اس کی شناخت اس کی پہچان اس کی علامت کی جب بات آتی ہے تو سب کی زبانوں سے ’ تاریخی چارمینار ‘ کا نام نکلتا ہے اور جب حیدرآباد میں علم و عمل تہذیب و ثقافت ، صحافت و ادب کا ذکر آتا ہے تو جامعہ نظامیہ ، عثمانیہ یونیورسٹی اور روزنامہ سیاست کے حوالے ضرور دئیے جاتے ہیں ۔ جس طرح محبت و مروت دوستی امن و آشتی ، انسانیت نوازی ، مہمان نوازی ، خداترسی ، حیدرآبادیوں کی پہچان ہے اسی طرح روزنامہ سیاست نے بھی دنیا بھر میں اپنی ایک منفرد پہچان بنائی گئی اور اس کا اعتراف ہمیشہ سے کیا جاتا رہا ہے ۔ حال ہی میں مولانا آزاد قومی اردو یونیورسٹی میں اردو صحافت کا 200 سالہ جشن منایا گیا جس میں ملک کے مختلف ریاستوں سے صحافیوں ، دانشوروں اور علم و ادب کی نمائندہ شخصیتوں نے شرکت کی اور انہیں اندازہ ہوا کہ ہندوستان میں روزنامہ سیاست کی مقبولیت کا راز اس کی بے باکی اور قوم و ملت کی رہنمائی کا جذبہ ہے ۔ ان شخصیتوں نے دیکھا کہ طلبہ سے لے کر اساتذہ اور سرکاری ملازمین سے لے کر چھوٹے بڑے تاجرین اور پائلٹس سے لے کر آٹو ڈرائیورس بھی روزنامہ سیاست کی خدمات کو سلام کرتے ہیں ۔ بہر حال اس عالمی کانفرنس میں شرکت کے لیے راجستھان کے جودھپور سے آئے مسٹر ایم آئی ظاہر نے انمول ہوٹل سے ایک آٹو کے ذریعہ روزنامہ سیاست پہنچے اس دوران تالاب کٹہ کے رہنے والے آٹو ڈرائیور 47 سالہ محمد اسد نے جسے اس بات کا کوئی اندازہ ہی نہیں تھا کہ آٹو میں سوار شخصیت روزنامہ سیاست جاری ہے ۔ روزنامہ سیاست کے بارے میں بڑی اپنائیت کا اظہار کرنے لگے ۔ اپنے مہمان کے ایک سوال پر محمد اسد نے بتایا کہ ہم اور ہمارا سارا خاندان روزنامہ سیاست کی بہت عزت کرتا ہے اور ہم حیدرآباد سیاست کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں ۔ تالاب کٹہ نشیمن نگر کے رہنے والے محمد اسد کے مطابق ان کے والد نواب باشاہ مرحوم اور دادا اکرم علی مرحوم روزنامہ سیاست کا مطالعہ کئے بغیر نہیں رہتے تھے ۔ اب بھی ان کے ارکان خاندان روزنامہ سیاست ہی پڑھتے ہیں ۔ محمد اسد نے اپنی سواری کو بتایا کہ سیاست صرف اخبار نہیں بلکہ مسلمانوں ، غریبوں ، بیماروں اور ہونہار لڑکے لڑکیوں کی مدد کا ذریعہ ہے اور یہ ہماری حیدرآباد تہذیب کی نمائندگی بھی کرتا ہے ۔ چنانچہ محمد اسد کی باتیں سن کر ایم آئی ظاہر حیران رہ گئے اور خود سے سوال کرنے لگے کہ ایک اخبار سے لوگوں کی اتنی محبت ہوتی ہے ۔۔