سچی باتیں کڑوے بول
کھول کے رکھ دے سب کی پول
مغربی بنگال کی سیاست میں ایک اسٹنگ آپریشن کے ویڈیو نے تہلکہ مچادیا ہے ۔ بابری مسجد کا جذباتی نعرہ لگاتے ہوئے مسلمانوں کو بیوقوف بنانے والے ہمایوں کبیر کی خود حقیقت آشکار ہوگئی ہے اور ان کا پردہ فاش ہوگیا ہے ۔ ترنمول کانگریس نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ہمایوں کبیر بی جے پی کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ جو ویڈیو ترنمول کانگریس نے جاری کیا ہے وہ بہت تیزی سے وائرل ہوگیا ہے ۔ اس ویڈیو میں ہمایوں کبیر کو یہ کہتے ہوئے سنا اور دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کو بیوقوف بنانا بہت آسان ہے ۔ اس کیلئے انہیں پیسے کی ضرورت تھی ۔ انہوں نے بی جے پی سے 1000کروڑ روپئے کا سودا کیا ہے تاکہ مسلمانوں کو ترنمول کانگریس سے دور کرتے ہوئے بنگال میں ممتابنرجی کو اقتدار سے بیدخل کرسکیں۔ اس ویڈیو میں ہمایوں کبیر یہ بھی کہتے ہوئے دکھائی دئے ہیں کہ ان کے سینئر بی جے پی قائدین ہیمنتا بسوا سرما اور سوویندو ادھیکاری سے بہت قریبی تعلقات ہیں۔ یہ در حقیقت ترنمول کانگریس کا ایک ایسا دھماکہ رہا ہے جس نے بنگال کی سیاست میں ہی ایک طرح سے بھونچال پیدا کردیا ہے اور اس کے اثرات ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی محسوس کئے جا رہے ہیں۔ مجلس اتحاد المسلمین نے بنگال میں ہمایوں کبیر کی پارٹی کے ساتھ انتخابی مفاہمت کی تھی اور ساتھ مل کر مقابلہ کیا جا رہا تھا تاہم اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہیں مجلس نے ہمایوں کبیر کی پارٹی سے اتحاد ختم کردینے کا اعلان کردیا ہے ۔ ترنمول نے 1000کروڑ کی معاملت کا حوالہ دیتے ہوئے ای ڈی کے ذریعہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ ہمایوں کبیر کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو فرضی ہے اور مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے ۔ ہمایوں کبیر کی جانب سے تردید تو سمجھ میں آتی ہے تاہم بی جے پی بھی اس ویڈیوکو فرضی قرار دے رہی ہے ۔ خود ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ کا کہنا ہے کہ ممتابنرجی اس طرح کے دو ہزار ویڈیو تیار کرواسکتی ہیں۔ بی جے پی اور خود امیت شاہ کی جانب سے اس ویڈیو کو فرضی قرار دیا جانا معنی خیز اور اہمیت کا حامل ہی کہا جاسکتا ہے ۔
ہمایوں کبیر کے تعلق سے ترنمول کانگریس نے جو پردہ فاش کیا ہے اس پر زیادہ یقین اسلئے بھی کیا جاسکتا ہے کہ ہمایوں کبیر بی جے پی کا حصہ رہے ہیں۔ ہمایوں کبیر نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے ٹکٹ پر لوک سبھا کیلئے مقابلہ کیا تھا لیکن وہ ناکام رہے تھے جس کے بعد وہ ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے اور رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے ۔ اس طرح یہ بات تو واضح رہے کہ وہ بی جے پی سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں اور بی جے پی ان کیلئے کوئی شجر ممنوعہ نہیں کہی جاسکتی ۔ بی جے پی سے ان کے کھلے تعلقات اور بی جے پی ٹکٹ پر مقابلہ کرنے کے باوجود جن جماعتوں نے ان کی پارٹی سے اتحاد کیا تھا خود ان کا رول بھی مشکوک ہی نظر آتا ہے ۔ جہاںتک بی جے پی کی بات ہے تو یہ حقیقت سارا ملک جانتا ہے کہ بی جے پی انتخابات جیتنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے ۔ بی جے پی کوئی بھی حربہ اور ہتھکنڈہ اختیار کرتے ہوئے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ وہ کسی کو بھی خریدنے سے گریز نہیں کرتی اور کسی کو بھی خریدنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ بی جے پی نے کامیاب ہوچکے ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ تک کو خریدا ہے اور عوام کی منتخبہ حکومتوں کو زوال کا شکار کیا ہے تو ہمایوں کبیر جیسے افراد کو خریدنا یا انہیں پیسہ فراہم کرتے ہوئے مسلمانوں کے ووٹوں کو تقسیم کروانا بی جے پی کیلئے کوئی مشکل کام یا بڑا مسئلہ ہرگز نہیں تھا ۔ بی جے پی کیلئے ہمایوں کبیر بھی ایک اچھا ذریعہ بن سکتے تھے اور اسی لئے شائد بی جے پی نے انہیں استعمال کیا ہے ۔
ترنمول کانگریس نے تاہم جو اسٹنگ آپریشن کرتے ہوئے پردہ فاش کیا ہے اس نے سارا کھیل بگاڑ دیا ہے ۔ ہمایوں کی حقیقت کو ریاست اور ملک کے عوام کے سامنے آشکار کردیا ہے اور اس بات کو واضح کردیا ہے کہ ہمیں یہ پہچاننے کی ضرورت ہے کہ ماری صفوں میں کتنے ہمایوں کبیر موجود ہیں۔ بی جے پی کی جانب سے ویڈیو کو فرضی قرار دیا جانا شبہات کو مزید تقویت دینے کیلئے کافی ہے ۔ اس ویڈیو کی جانچ کرواتے ہوئے اس میں کئے گئے انکشافات کی تحقیقات ہونی چاہئے ۔ جو معاملتیں ہوئی ہیں ان کو منظر عام پر لاتے ہوئے تمام ڈوغلے چہروں کے نقاب عوام کے سامنے الٹے جانے چاہئیں۔