ہند ۔ پاک کشیدگی کے دوران عمران خان کا قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس

,

   

صدر ڈونالڈ ٹرمپ کیلئے اب مداخلت کا وقت آچکا ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان کے سوشیل میڈیا پر پیامات
اسلام آباد 4 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے آج قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی اور اس میں انہوں نے ملک کے اعلی سیول اور فوجی قائدین کے ساتھ ہندوستان کے ساتھ کشیدگی میں اچانک اضافہ پر تبادلہ خیال کیا ۔ عمران خان نے یہ اجلاس اس وقت طلب کیا جب فوج کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کیلئے کلسٹر بم استعمال کئے ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک ‘ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ‘ فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا اور دوسرے عہدیداروں نے شرکت کی ۔ اجلاس کے بعد کئی ٹوئیٹس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر میں مداخلت کریں۔ عمران خان نے یہ دعوی کیا کہ ہندوستانی افواج نے لائین آف کنٹرول کے پار عام شہریوں کے خلاف کلسٹر بم استعمال کئے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لے ۔عمران خان نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں یہ بھی کہا کہ کشمیر کے عوام کو خود ارادیت کا حق دیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن اور سلامتی کا راستہ صرف مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل ہی کے ذریعہ ممکن ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان نے عام شہریوں کے خلاف کلسٹر بم استعمال کئے ہیں اور اس کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو نوٹ لینا چاہئے ۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ہندوستان کی جانب سے آبادی والے حلقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اطلاعات و نشریات پر وزیر اعظم کی خصوصی معاون فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت کو ایک ساتھ آنے کی ضرورت ہے تاکہ اتحاد اور یکجہتی کا پیام دیا جاسکے ۔ شاہ محمود قریشی نے بھی اتوار کو تنظیم اسلامی کانفرنس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف احمد العثمان سے کہا کہ وہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیں ۔ ایک ریڈیو پروگرام میں دعوی کیا گیا کہ سکریٹری جنرل تنظیم اسلامی کانفرنس نے مکمل تعاون کا تیقن دیا ہے ۔