مذہبی جنون کیلئے ’’ہندو‘‘ حق مانگنے پر ’’دلت‘‘ اشوک موچی کی بدحالی، سڑکوں پر گذارہ
حیدرآباد 21 مئی (سیاست نیوز) گجرات کے 2002ء فسادات کے دوران ماتھے پر زعفرانی پٹی باندھے ہاتھ میں لوہے کی سلاخ لہراتے ہوئے جس نوجوان کو ہندو غصے اور بیداری کا پوسٹر بوائے بناکر پیش کیا گیا تھا، آج اُس کی حقیقت بی جے پی اور دوسری ہندوتوا طاقتوں کے کھوکھلے دعوؤں کی قلعی کھول رہی ہے۔ اشوک پرمار جنھیں دنیا اشوک موچی کے نام سے جانتی ہے، آج احمدآباد کے فٹ پاتھ پر انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ 20 سال پہلے ہندو پوسٹر بوائے کہلانے والے اشوک پرمار نے اپنی دُکھ بھری زندگی کو ایک ٹیلی ویژن چیانل پر پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہندوتوا طاقتوں نے سیاسی فائدے کے لئے ہندو مسلم فسادات کرائے اور ان جیسے کئی نوجوانوں کے مذہبی جذبات کا استحصال کیا پھر انھیں نظرانداز کردیا۔ انھوں نے کہاکہ وہ دلت طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے ہندوتوا طاقتوں کے ٹھیکیداروں نے انھیں نظرانداز کردیا۔ انھیں اور ان کی تصویر کو سیاسی اور ہندوتوا ایجنڈے کو چمکانے کے لئے استعمال کیا گیا اور اس کی بڑی تشہیر کی گئی لیکن آج تک کسی بھی بڑے ہندو یا مذہبی پروگرام میں مدعو تک نہیں کیا گیا۔ جس رام بھکتی اور ہندو کاز کے نام پر ان کے غصے کو 2002ء میں کیش کروایا گیا تھا مگر ایودھیا میں رام مندر کی افتتاحی تقریب میں انھیں مدعو کرنے کی بھی زحمت نہیں کی گئی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اشوک موچی کا استعمال صرف ایک مہرے کے طور پر کیا گیا تھا۔ اشوک موچی کی موجودہ حالت زار کو دیکھ کر یہ واضح ہوجاتا ہے کہ بی جے پی اور ہندوتوا طاقتوں نے ایک نوجوان کو فسادات کی آگ میں جھونکنے اور سیاسی فائدہ اُٹھانے کے بعد اسے مکمل طور پر بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ اشوک موچی نے کہاکہ 2002ء کے فسادات کے بعد سے لے کر آج تک کسی بھی ہندو تنظیم، بی جے پی یا کسی اور نے ان کی کوئی مالی مدد نہیں کی۔ وہ لوگ جو خود کو ہندو دھرم کے ٹھیکیدار کہتے ہیں، انھوں نے مجھے سڑکوں پر مرنے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔ اشوک موچی کی وہ تصویر اور ان کی موجودہ حالت اس بات کی تلخ مثال ہے کہ کس طرح پسماندہ طبقات کے نوجوانوں کو فرقہ وارانہ فسادات اور نفرت کی سیاست کے لئے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ گزشتہ 20 سے زائد برسوں میں گجرات کا سیاسی سماجی منظر نامہ تو یکسر بدل گیا، بڑے بڑے قائدین اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں تک پہونچ گئے لیکن وہ شخص جو نادانستہ طور پر اس تشدد کا چہرہ بنا تھا، آج بھی اسی جگہ کھڑا ہے جہاں سے اس نے شروعات کی تھی۔ یعنی کھلے آسمان تلے، معاشرے کے حاشیہ پر فٹ پاتھ پر زندگی گزارتے ہوئے یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اس کی جوانی اور زندگی کس طرح سیاست کی نذر ہوگئی۔V/2