ہندوستان بھر میں ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کے خلاف ۔4,442 مقدمات ،اُترپردیش سرفہرست

,

   

ہندوستان بھر میں ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کے خلاف
۔4,442 مقدمات ،اُترپردیش سرفہرست
نئی دہلی : ہندوستان بھر میں ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے خلاف 4,442 مقدمات زیرالتواء ہیں۔ سینئر ایڈوکیٹ وجئے ہنساریہ نے سپریم کورٹ کو مطلع کیا کہ ان ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی میں 2,556 موجودہ ارکان ہیں جنہیں مقدمات کا سامنا ہے۔ اپنے طور پر تیار کردہ رپورٹ میں سینئر ایڈوکیٹ وجئے ہنساریہ نے ایڈوکیٹ اسنیہا کلیتا کے ذریعہ عدالت میں یہ رپورٹ پیش کی ہے۔ اشونی کمار اُپادھیائے کی جانب سے داخل کردہ مفادِ عامہ کی درخواست پر سپریم کورٹ نے ہدایت جاری کی تھی۔ اشونی کمار نے سابق اور موجودہ ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے خلاف زیرالتواء فوجداری مقدمات کی تیزی سے یکسوئی کا مطالبہ کیا تھا۔ ملک بھر کے ہائیکورٹس کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ موجودہ اور سابق لیجسلیٹرس کے خلاف فوجداری مقدمات کی ایک فہرست تیار کریں جس کے بعد پتہ چلا کہ مختلف عدالتوں میں موجودہ اور سابق ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے خلاف 4,442 کیسیس زیرالتواء ہیں۔ 2,556 کیسیس موجودہ ارکان کے خلاف چل رہے ہیں۔ 5 مارچ 2020ء کی تاریخ کو جاری کردہ حکم نامہ میں ہدایت دی گئی ہے کہ تمام ہائیکورٹس کے رجسٹرار جنرلس کو ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے خلاف زیرالتواء مقدمات کی تفصیلات جمع کرانی چاہئے۔ مذکورہ کے مطابق تمام ہائیکورٹس کو یہ اطلاع دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ میں داخل کردہ حل نامہ میں بتایا گیا ہے کہ 413 ایسے کیس ہیں جس میں عمرقید کی سزا ہوسکتی ہے، ان میں 174 موجودہ ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی پر مقدمات چل رہے ہیں۔ اترپردیش جرائم کی دنیا میں سرفہرست ریاست کا درجہ رکھتی ہے، جہاں ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے خلاف 1,217 کیس زیرالتواء ہیں۔ ان میں سے موجودہ لیجسلیٹرس کو 446 کیسوں میں ماخوذ کیا گیا ہے۔ ہائیکورٹ کی جانب سے حکم التواء دینے پر 85 کیسوں کو روک دیا گیا ہے۔ بہار کا دوسرا نمبر ہے جہاں 531 کیس زیرالتواء ہیں، ان میں سے 256 کیس موجودہ ارکان پر چلائے جارہے ہیں۔ اڈیشہ میں 331 زیرالتواء کیس ہیں اور 220 کیسوں میں موجودہ ارکان اسمبلی ماخوذ ہیں۔