آندھرا پردیش، تلنگانہ اور کیرالا میں زیادہ مہنگا، کمزور معاشی موقف کے سبب مزید اضافے کا اندیشہ
حیدرآباد۔ 31 مئی (سیاست نیوز) مغربی ایشیاء میں کشیدگی کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ہندوستان میں قیمتوں میں اُچھال کی شکل میں دیکھا جارہا ہے۔ ماہ مئی کے دوران ہندوستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 4 مرتبہ اضافہ کیا گیا۔ آندھرا پردیش، تلنگانہ اور کیرالا جیسی ریاستوں میں پٹرول کی قیمت فی لیٹر 115 روپے سے تجاوز کرچکی ہے۔ مرکزی حکومت نے تیل کی کمپنیوں کو نقصان کا بہانہ کرتے ہوئے پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ غریب اور متوسط طبقات کے لئے اشیائے ضروریہ کو مزید مہنگا کردیگا۔ ٹرانسپورٹیشن اور دیگر چارجس میں اضافے کی بنیاد پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور خاص طور پر غذائی اجناس کے مہنگے ہونے کا اندیشہ ہے۔ 5 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران ملک کی معاشی صورتحال کو مستحکم بتایا گیا لیکن نتائج کے اعلان کے بعد معیشت کو زوال پذیر قرار دیا جارہا ہے۔ مرکزی حکومت نے عوام کو بچت کے سلسلہ میں کئی تجاویز پیش کئے ہیں۔ خام تیل کی قیمت میں اضافے کا بہانہ بناکر صرف ایک ماہ میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 4 مرتبہ اضافہ ہوچکا ہے۔ پکوان گیس اور سی این جی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ کمرشیل گیس سلینڈرس کی قیمت میں تقریباً ایک ہزار روپے کا اضافہ ہوا لیکن ڈیلرس کی جانب سے کمرشیل سلینڈرس بلیک میں فروخت کئے جارہے ہیں۔ آندھرا پردیش میں پٹرول کی قیمت فی لیٹر 117.88 روپے ہوچکی ہے جبکہ تلنگانہ میں 115.69 روپے فی لیٹر ہے۔ کیرالا میں پٹرول کی قیمت 115.49 روپے ہوچکی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے میں مقامی سطح کے ٹیکسوں کا بھی اہم رول ہوتا ہے۔ ملک کی معاشی کمزور صورتحال کے نتیجہ میں آئندہ بھی پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا اندیشہ برقرار ہے۔ ہندوستان میں اروناچل پردیش واحد ریاست ہے جہاں پٹرول کی قیمت میں 100 روپے سے یعنی 97.70 روپے فی لیٹر ہے۔ باقی تمام ریاستوں میں قیمت 100 سے تجاوز کرچکی ہے۔ 1؍F