ہندوستانی سرمایہ کاروں کی تباہی

   

تم ابھی شہر میں کیا نئے آئے ہو
رک گئے راہ میں حادثہ دیکھ کر
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے جہاں ساری دنیا پر اثرات ڈالنے شروع کردئے ہیں وہیں اس کے الگ الگ ممالک پر الگ الگ اثرات مرتب ہونے لگے ہیں ۔ کئی ممالک اس جنگ کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں تو کئی ممالک ایسے بھی ہیں جہاں سرمایہ کاروں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ان میں ہندوستان ایسا لگتا ہے کہ سر فہرست ہے ۔ ہندوستان پر اس جنگ کی وجہ سے جو اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس کی وجہ سے عوام پر دوہرا بوجھ عائد ہوگیا ہے اور اندرون ملک بے چینی کی صورتحال پیدا ہونے لگی ہے ۔ جس جنگ کا اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف آغاز کیا تھا اس کے اثرات خود ان ممالک میں کیا کچھ مرتب ہو رہے ہیں یہ تو فی الحال کہا نہیں جاسکتا لیکن ہندوستان پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایک تو تیل کا مسئلہ سنگین ہونے لگا ہے ۔ حالانکہ امریکہ نے ایک ماہ کیلئے روس سے تیل کی خریداری کی اجازت دی ہے تاہم اندرون ملک طلب اور سپلائی کا توازن برقرار رکھنا حکومت کیلئے آسان نہیں ہے ۔ حالانکہ ملک میں تیل کے ذخائر موجود ہیں اور بیرون ملک سے سپلائی بھی ابھی برقرار ہے تاہم ایران کے خلاف جنگ اور فوجی کارروائیاں تھمنے میں نہیں آ رہی ہیں۔ امریکہ نے ایک ماہ روس سے تیل کی خریدی کی اجازت دے کر یہ واضح کردیا ہے کہ جنگ مزید کچھ ہفتے چل سکتی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں ہندوستان پر منفی اثرات مرتب ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ ہندوستان میں حکومت کی جانب سے پکوان گیس کی قیمتوں میںاضافہ کردیا گیا ہے ۔ حالانکہ ابھی ملک میں ذخائر موجود ہیں اور ابھی بیرونی ممالک سے سپلائی پر بھی کوئی خاص منفی اثر نہیں پڑا ہے اس کے باوجود حکومت کی جانب سے قیمتوں میں بھاری اضافہ کرتے ہوئے ایک طرح سے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے ۔ یہ حکومت کی جانب سے نفع خوری کی کوشش بھی کہی جاسکتی ہے ۔ گھریلو صارفین پر بھی اور تجارتی صارفین پربھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور عوام کو پیش آنے والی مشکلات میں مزید اضافہ ہی ہوگا ۔
اس کے علاوہ ملک کی اسٹاک مارکٹ میں آج ایک دن میں جو تباہی آئی ہے اس نے ایک طرح سے معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ آج ایک دن میں سرمایہ کارو ں کو تقریبا 25 لاکھ کروڑ روپئے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ان کا سرمایہ ہاتھ سے نکل گیا ہے اور بھاری نقصانات نے کئی گوشوں کو مایسیوں کے دلدل میں ڈھکیل دیا ہے ۔ کئی ادارے اور تاجر توا یسے بھی ہوگئے ہیں جن کے پاس اب کچھ نہیں بچا ہے اور وہ اپنی تجارت کو جاری رکھنے میں بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ آج ایک دن میں جو نقصان ہوا ہے وہ ہندوستان کی جملہ گھریلو پیداوار کا ساتواں حصہ تھا جو تلف ہوگیا ہے ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جو ملک کی معیشت کیلئے بالکل بھی اچھی نہیں کہی جاسکتی اور جہاں تک حکومت کا سوال ہے تو اس نے سرمایہ کاروں کو چوکس اور خبردار کرنے کیلئے کوئی کوشش نہیں کی ۔ کوئی اقدامات نہیں کئے اور نہ ہی مارکٹ میں استحکام اور توازن برقرار رکھنے کیلئے کسی طرح کے تسلی بخش اعلانات کئے تھے ۔ جس طرح مہنگائی کی مار سہنے کیلئے ملک کے عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے اسی طرح جنگ کی وجہ سے نقصانات کی مار سہنے کیلئے ملک کے سرمایہ کاروں کو بھی بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے ۔ ہر دو طرح کی صورتحال میںملک کے عوام ہی متاثر ہو رہے ہیں اور دونوں ہی معاملات میں حکومت کی جانب سے عوام کو اس صورتحال سے بچانے کیلئے کوئی جامع اورموثر اقدامات نہیں کئے گئے ہیں ۔
ویسے بھی ساری دنیا کی اسٹا مارکٹس ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے اتھل پتھل کا شکار ہی ہیں لیکن ہندوستان پر ایسا لگتا ہے کہ سب سے زیادہ اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جس طرح کی تباہی ہندوستانی اسٹاک مارکٹ میں ہوئی ہے اس کی ماضی میں کوئی نظیر ملنی مشکل دکھائی ہے ۔ سرمایہ کاروں کو جو نقصانات ہوئے ہیں ان کی تلافی فوری طور پر تو ناممکن ہی نظر آتی ہے ۔ حکومت کو اس سارے معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ ملک کی معیشت کو مزید نقصانات اور تباہی سے بچانے کیلئے اقدامات پر توجہ کرنی چاہئے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔