ہندوستانی فوج نے 5 ہزار کروڑ کے اسلحہ خریدے

   

چین کے ساتھ کشیدگی کے درمیان بڑی دفاعی ہنگامی تیاری

نئی دہلی : ہندوستانی فوج نے اپنی دفاعی طاقت میں اضافہ کے لئے 18 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں جس میں گزشتہ 5 ہزار کروڑ کی لاگت کے ہنگامی اسلحہ خریدے گئے۔ چین کے ساتھ فوجی کشیدگی کے درمیان ہندوستانی فوج نے اپنی دفاعی تیاریوں میں تیزی پیدا کی ہے۔ پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اپنے آرمی ڈے خطاب سے فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نروانے نے کہاکہ 5 ہزار کروڑ کی جو خریداری کی گئی ہے وہ ہنگامی صورتحال کے تحت کی گئی۔ ہم نے 5 ہزار کروڑ کی لاگت کے اسلحہ خریدے ہیں۔ اس کے لئے فاسٹ ٹریک اسکیم سے استفادہ کیا گیا۔ اسکیم کے تحت اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر اشیاء کی ہنگامی خریداری کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ 13 ہزار کروڑ روپئے سے بھی ہم نے اسلحہ خریدے ہیں۔ نہ صرف ہم نے ہنگامی طور پر اسلحہ کو خریدا ہے بلکہ سرما کے موسم میں بھی فوجیوں کے خاندان والوں کے لئے امدادی قائم بھی کئے ہیں۔ فوجی سربراہ نے مزید کہاکہ لداخ میں کی گئی کارروائی جس کا نام ’’آپریشن اسنو لیپرڈ‘‘ رکھا گیا تھا، جس کے تحت فوجیوں کے ارکان خاندان کے لئے پنشن کو لازما بنایا گیا تھا۔ جنگ میں زخمی جوانوں کے لئے سب سے زیادہ ایکس گریشیاء دینے کے لئے بھی رقم مختص کی گئی تھی۔ 2020 ء میں گلوان وادی میں چین کی فوج کے ساتھ ہندوستانی سپاہیوں کی جھڑپ کے دوران 20 ہندوستانی سپاہی شہید ہوئے تھے۔ اس کے بعد ہندوستانی فوج نے کئی ایک ہنگامی خریداریاں انجام دی ہیں۔ ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر تیاریوں اور تعیناتی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم نے سرد مقامات کے مطابق گرم کپڑے، شیلٹرس، خیمے اور دیگر اوزار خریدے۔