ہنمنت راؤ کی قیامگاہ پر منور کاپو طبقہ کے اجلاس میں بی جے پی اور بی آر ایس کی شرکت

   

کانگریس ہائی کمان کا اظہار ناراضگی، پسماندہ طبقات کی ترقی کے عہد کا اعادہ
حیدرآباد 2 مارچ (سیاست نیوز) کانگریس ہائی کمان نے سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ کی قیامگاہ پر منور کاپو طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائدین کے اجلاس پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ہنمنت راؤ کی قیامگاہ پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے منور کاپو طبقہ سے تعلق رکھنے والے قائدین کا اجلاس منعقد ہوا جس میں حکومت میں منور کاپو طبقہ کی نمائندگی کے لئے جدوجہد کا فیصلہ کیا گیا۔ بی جے پی اور بی آر ایس کے قائدین بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ کانگریس پارٹی سے حکومت کے مشیر ڈاکٹر کیشو راؤ اور گورنمنٹ وہپ اے سرینواس نے شرکت کی تھی۔ منور کاپو طبقہ کی طاقت کے مظاہرہ کے لئے جلسہ عام کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت کل جماعتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اجلاس میں گورنمنٹ وہپ اے سرینواس کو ریاستی کابینہ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ہنمنت راؤ کی قیامگاہ پر اجلاس کی تفصیلات منظر عام پر آتے ہی پارٹی ہائی کمان نے اِس معاملہ کا سختی سے نوٹ لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ انچارج میناکشی نٹراجن نے اجلاس میں بی آر ایس اور بی جے پی قائدین کی شرکت پر ناراضگی جتائی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر کانگریس سے تعلق رکھنے والے منور کاپو قائدین شرکت کرتے تو کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن بی آر ایس اور بی جے پی کو طلب کرنا پارٹی اور حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ میناکشی نٹراجن نے پارٹی میں طبقاتی سیاست کی حوصلہ افزائی کے خلاف کارروائی کا اشارہ دیا اور کہاکہ کانگریس پارٹی تمام بی سی طبقات کی ترقی کے حق میں ہے۔ سماجی انصاف کی فراہمی کے لئے طبقاتی سروے کا اہتمام کیا گیا اور حکومت نے بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے میں مخالف پارٹیوں کے قائدین کو اجلاس میں مدعو کرنا ٹھیک نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ میناکشی نٹراجن نے مستقبل میں اِس طرح کی سرگرمیوں سے گریز کا مشورہ دیا۔ 1