ہوا سے پانی ‘ IICT سکندرآباد کا کارنامہ

   


حیدرآباد۔/18 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) کیا آپ جانتے ہیں ہوا میں تقریباً 3.1 کواڈریلین گیالنس پانی ہوتا ہے ؟ ہاں یہ ایک حقیقت ہے۔ ہمارے ماحول ؍ ہوا میں چھوٹے پانی کے قطروں اور رطوبت کی شکل میں اس قدر زیادہ پانی ہوتا ہے جو ملک کی پانی کی ضرورت کو پورا کرنے سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ پانی ایک انتہائی اہم قدرتی وسیلہ ہے لیکن دنیا میں پانی کی قلت ہورہی ہے۔ اس طرح کے بڑے مسائل کو ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے حل کرنے کیلئے سی ایس آئی آر آئی آئی سی ٹی حیدرآباد کے راما کرشنا فاؤنڈر اینڈ منیجنگ ڈائرکٹر، مائتری اکواٹیک‘ جو ایک منفرد اسٹارٹ اَپ ہے‘ نے محض قدرتی ’’ ہوا ‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے پانی بنایا ہے جو نہ صرف ماحولیات کیلئے بہتر ہے بلکہ کفایتی بھی ہے۔ دنیا اور ہندوستان میں لاکھوں لوگوں کو صاف تازہ پانی نہیں ملتا اور کئی ممالک میں خشک سالی اور خشک موسم کا سامنا ہے۔ پانی کی کمی سے دستیاب پانی کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے اور اس کے باعث زیادہ تر پانی کی وجہ ہونے والے امراض ہوتے ہیں۔ پانی کے نئے وسائل پیدا کرنے کیلئے راما کرشنا نے اے ڈبلیو جی ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے قدرتی ہوا کا استعمال کیا اور صاف خالص پانی بنایا۔ اے ڈبلیو جی ایک فضائی واٹر جنریٹر ہے جسے ’’ میگھدوت ‘‘ کہا جاتا ہے جو چاروں طرف کی ہوا کو جذب کرتا ہے اور ہوا میں موجود آبی بخارات کو پانی میں تبدیل کرتا ہے۔ مائیتری اکواٹیک کی جانب سے بنایا گیا میگھدوت واٹر جنریٹر صاف خالص تازہ پینے کا پانی فراہم کرتا ہےؔ پانی کو ضائع کئے بغیر اور اس میں جسم کیلئے ضروری تمام معدنیات اور کیلثیم ہوتا ہے ۔ مسٹر راما کرشنا کے مطابق اس واٹر جنریٹر کو گھریلو استعمال یا کارپوریٹ یا انڈسٹریز کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان مشینس سے حاصل ہونے والا پانی صاف اور خالص ہوتا ہے اور اس کی قیمت تقریباً 2.5 روپئے فی لیٹر ہوتی ہے۔ اس کے استعمال سے ہوا میں ہونے والی آلودگی بھی فلٹر ہوجاتی ہے اور تازہ پینے کا پانی حاصل ہوتا ہے۔ اس پراڈکٹ سے متعلق مزید تفصیلات کیلئے www.nylalife.com دیکھ سکتے ہیں۔