ہیومن رائٹس واچ کا طالبان سے اقوام متحدہ اور این جی او کے عملے کی رہائی کا مطالبہ

   

واشنگٹن :13 اگست ( یو این آئی ) ہیومن رائٹس واچ نے حالیہ ہفتوں میں طالبان کی جانب سے متعدد گرفتاریوں کے بعد افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے دو اہلکاروں اور 6این جی او کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطاب ایچ آر ڈبلیو نے چہارشنبہ کو کہا کہ خواتین اور بچوں کی قانونی تحقیقاتی فاؤنڈیشن کے ساتھ کام کرنے والے چھ مرد عملے کو گذشتہ ماہ کابل دفتر سے ’زبردستی غائب‘ کر دیا گیا۔ اس این جی او نے خواتین اور بچوں کے حقوق پر امدادی پروگرام اور وکالت میں حصہ لیا ہے۔ایک الگ واقعے میں ہیومن رائٹس واچ نے اقوامِ متحدہ کے افغانستان امدادی مشن کے دو افغان عملے کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا، جنہیں اتوار کو طالبان انٹیلیجنس اہلکاروں نے مغربی شہر ہرات میں گرفتار کیا۔اقوامِ متحدہ نے اس ہفتے کے اوائل میں اپنے دو اہلکاروں کی گرفتاری کی تصدیق کی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے چہارشنبہ کے روز ایک بریفنگ میں کہا کہ ’یوناما کو ان کے خلاف الزامات سے آگاہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہیں ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔‘یہ گرفتاریاں صرف چند دن پہلے منظرِ عام پر آئیں، جب طالبان اس ہفتے کے روز اپنی اقتدار میں واپسی کی پانچویں سالگرہ منانے والے ہیں۔