یتی نرسنگھانند کو فوری گرفتار کرنے بی آر ایس قائدین کا مطالبہ

   

ڈائرکٹر جنرل پولیس کو یادداشت، فرقہ پرست طاقتوں پر نظر رکھنے کی اپیل
حیدرآباد 10 اکٹوبر (سیاست نیوز) بی آر ایس نے ڈائرکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر جیتندر سے مطالبہ کیاکہ اترپردیش کے متنازعہ یتی نرسنگھانند کو فوری گرفتار کیا جائے جس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام کی شان میں گستاخانہ ریمارکس کئے ہیں۔ سابق وزیرداخلہ محمد محمود علی، سابق صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم کی قیادت میں بی آر ایس قائدین کے ایک وفد نے آج ڈائرکٹر جنرل پولیس سے ملاقات کی اور نرسنگھانند اور اُس کے ساتھیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ نرسنگھانند نے سابق میں بھی گستاخانہ بیانات جاری کرتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ بی آر ایس قائدین نے کہاکہ نرسنگھانند کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے تلنگانہ پولیس عہدیداروں کی ٹیم کو گرفتاری کے لئے اترپردیش روانہ کیا جانا چاہئے۔ سابق وزیرداخلہ محمد محمود علی نے کہاکہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن کے ماحول کو بگاڑنے کے لئے فرقہ پرست طاقتیں سرگرم ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ جو ہمیشہ امن کا گہوارہ رہا وہاں بھی فرقہ پرست تنظیمیں سر اُبھارنے کی کوشش کررہی ہیں۔ پولیس کو ایسی طاقتوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ سابق صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہاکہ بی آر ایس پارٹی نے 10 سالہ اقتدار میں فرقہ پرست طاقتوں کی سرکوبی کرتے ہوئے تلنگانہ میں امن و امان اور گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ اترپردیش میں بی جے پی اقتدار کے سبب فرقہ پرست طاقتوں کو کھلی چھوٹ مل چکی ہے اور یتی نرسنگھانند جیسے شرپسند وقتاً فوقتاً اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بیان بازی کے ذریعہ ماحول کو بگاڑنا چاہتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ پولیس کو چاہئے کہ نرسنگھانند کو گرفتار کرتے ہوئے حیدرآباد منتقل کیا جائے اور یہاں کی عدالت میں اُس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ وفد میں ارشد علی خاں، منیرالدین، مقیط چندا، اکبر حسین، معید خان اور دوسرے موجود تھے۔1