نئی دہلی: ل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے پریس نوٹ میں کہا ہے کہ بورڈ نے لا کمیشن سے UCC جیسے اہم مسئلہ پر رائے پیش کرنے کے لئے 6 ماہ کی توسیع کا مطالبہ کیا تھا؛ اس لئے کہ ایک ماہ کی مدت اس اہم مسئلہ کے لئے ناکافی ہے، مگر لا کمیشن نے صرف دو ہفتوں کا اضافہ کیا ہے پھر بھی ہم اس کا استقبال کرتے ہیں، اور امید کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سلسلہ میں اپنی رائے پیش کریں گے، صدربورڈ نے مزید کہا کہ یہ ملک مختلف مذاہب، تہذیبوں، روایتوں اور رسوم وروایات کا حامل ہے، یہی تنوع اس کی پہچان اور خوبصورتی ہے اور اسی وجہ سے دنیا بھر میں اس کو عزت ووقار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، جن لوگوں نے اس ملک کی آزادی کے لئے ہر طرح کی قربانی پیش کی، جنگ آزادی کے اُن سپہ سالاروں اور ملک کے معماروں کے ذہن میں بھی اس ملک کا یہی تصور تھا کہ یہاں مختلف قومیں اپنی اپنی مذہبی اور تہذیبی شناخت کے ساتھ مل جل کر رہیں گی اور اس طرح ہمارا ملک رنگ برنگ پھولوں کا ایک خوبصورت گلدستہ بنا رہے گا، بابائے قوم مہاتما گاندھی جی نے گول میز کانفرنس لندن1931 میں پوری وضاحت کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ مسلم پرسنل لا کو کسی بھی قانون کے ذریعہ چھیڑا نہیں جائے گا۔آزادی سے پہلے بنیادی طور پر کانگریس پارٹی ہی ہندوستانیوں کی نمائندگی کرتی تھی، اس نے 1938کے ہری پور اجلاس میں صاف طور پر اعلان کیا تھا کہ اکثریت کی طرف سے مسلم پرسنل لا میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی،اسی جذبہ کے تحت 1937میں باتفاق رائے شریعت اپلی کیشن ایکٹ پاس ہوا، جس میں پوری وضاحت اور تفصیل کے ساتھ مسلم پرسنل لا کے دائرہ میں آنے والے مسائل کو طے کر دیا گیا اور کہا گیا کہ ان مسائل میں مسلمانوں پر قانون شریعت ہی لاگو کیا جائے گا۔