یو پی آئی ٹرانزیکشن میں تبدیلی، فروری سے نئے قوانین کا نفاذ

,

   

نئی دہلی ۔5؍فروری ( ایجنسیز )ہندوستان میں ڈیجیٹل پیمنٹ لوگوں کی روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ سبزی خریدنے سے لیکر آن لائن شاپنگ، بجلی کا بل ادا کرنے اور دوستوں کو پیسے بھیجنے تک ہر جگہ یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی) کا استعمال ہو رہا ہے۔ ایسے میں اگر یو پی آئی کے اصولوں میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو اس کا اثر کروڑوں لوگوں پر پڑتا ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت، آر بی آئی اور این پی سی آئی نے فروری 2026 سے یو پی آئی کے نئے قوانین کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان نئے قوانین کا مقصد لین دین کو مزید تیز بنانا، دھوکہ دہی سے بچانے کیلئے سیکورٹی میں اضافہ کرنا، صارفین کو اپنے پیسوں اور ادائیگی پر زیادہ کنٹرول دینا ہے۔ اگر آپ گوگل پے، فون پے، پے ٹی ایم یا کسی بھی یو پی آئی ایپ کا استعمال کرتے ہیں تو آپ کو بتا دیںکہ یو پی آئی کے کون سے نئے قوانین فروری سے نافذ ہو رہے ہیں۔نئے قوانین کے تحت یو پی آئی لین دین اور اے پی آئی رسپانس کو 10 سیکنڈ کے اندر مکمل کرنا ضروری ہوگا۔ پہلے وقت کی حد 30 سیکنڈ تھی جس کی وجہ سے کئی بار پیمنٹ پینڈنگ ہو جاتا تھا یا تاخیر سے مکمل ہوتا تھا۔ اب فائدہ یہ ہوگا کہ پیمنٹ جلدی مکمل ہوگا، پینڈنگ یا پروسیسنگ میں پھنسے ٹرانزیکشن کم ہوں گے، مصروف اوقات (جیسے سیل یا ماہ کے اخیر میں) بھی سسٹم بہتر کام کرے گا۔2026 کے نئے یو پی آئی قوانین میں خاص طور پر بڑی رقم کی لین دین کیلئے سیکورٹی کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ صارفین آسانی سے اپنی سبسکرپشن کو دیکھ، مینج اور کینسل کر پائیں گے۔ اس سے غلط کٹوتی اور دھوکہ دہی کے امکانات کم ہوں گے۔ صارفین کو واضح طور پر بتایا جائے گا کہ پیسہ اکاؤنٹ سے ڈیبٹ ہوا ہے یا نہیں، کہاں پینڈنگ ہے، کب واپس ملے گا، اس سے صارفین کی پریشانی اور الجھن دونوں میں کمی آئے گی۔یو پی آئی اب صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہے بلکہ 8 ممالک میں استعمال ہو رہا ہے جس میں بھوٹان، فرانس، ماریشس، نیپال، قطر، سنگاپور، سری لنکا اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ (جون 2025) کے مطابق یو پی آئی دنیا کی سب سے بڑی ریئل۔ٹائم ریٹیل پیمنٹ سسٹم ہے۔ ’اے سی آئی ورلڈ وائڈ‘ رپورٹ 2024 کے مطابق دنیا کی مجموعی ریئل ٹائم دیجیٹل پیمنٹس میں تقریباً 49 فیصد حصہ یو پی آئی کا ہے۔