ٹکرا رہا ہے میری انا سے میرا وجود
خودداری دے رہی ہے بلا کی سزا مجھے
اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کے آج پانچ مراحل پورے ہوگئے ہیں۔ مزید دو مراحل میں ووٹ ڈالے جانے ہیں۔ اترپردیش کی سیاسی اہمیت کو دیکھتے ہوئے سارے ملک کی نظریں انتخابات اور ان کے نتائج پر مرکوز ہے ۔ 7 مارچ کو آخری مرحلہ کی رائے دہی کے بعد 10 مارچ کو ووٹوں کی گنتی ہوگی اور نتائج سامنے آئیں گے ۔ ویسے تو مزید چار ریاستوں پنجاب ‘ اترکھنڈ ‘ گوا اور منی پور میں بھی ووٹ ڈالے گئے ہیں لیکن ساری توجہ اترپردیش پر مرکوز ہوکر رہ گئی ہے ۔ سیاسی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل اس ریاست میں سات مراحل میں ووٹ ڈالے جانے تھے اور اب تک پانچ مراحل کی تکمیل ہوچکی ہے ۔ ریاست میں بی جے پی اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے سردھڑ کی بازی لگا رہی ہے اور سماجوادی پارٹی اقتدار پر واپسی کیلئے پوری کوشش کر رہی ہے ۔ ایسے میں دیکھنے میں آیا ہے کہ جیسے جیسے انتخابات کے مراحل آگے بڑھتے گئے ویسے ویسے وہاں دھاندلیاں اور بے قاعدگیاں بڑھتی گئی ہیں۔ رائے دہی کے تقریبا ہر مرحلہ میں ووٹرس نے اپنے نام ووٹر لسٹ سے غائب ہوجانے کی شکایت کی ہے جبکہ کئی ووٹرس نے سابق میں ووٹ دینے کا حوالہ بھی دیا ہے ۔ اس کے علاوہ کئی بوتھس پر ووٹنگ مشینوں کے ٹھیک سے کام نہ کرنے کی شکایات بھی پیش آئی ہیں۔ بعض بوتھس پر دو دو گھنٹوں تک ووٹنگ مشین کام نہیں کر رہے تھے ۔ اس سے رائے دہی پر اثر پڑا ہے ۔ ووٹنگ کا تناسب گھٹ گیا ہے ۔ اسی طرح کچھ بوتھس پر یہ شکایات عام ہوگئی ہیں کہ مخصوص طبقات کے ووٹرس کے نام فہرست سے خارج کردئے گئے ہیں۔ ووٹرس کی شکایات ہے کہ ان کو ایک منظم سازش اور منصوبے کے تحت رائے دہی سے محروم کرنے کیلئے ایسا کیا گیا ہے ۔ الیکشن کمیشن ان سارے معاملات میں خاموش تماشائی ہی بنا ہوا نظر آتا ہے ۔ کئی جماعتوں اور امیدواروں کی جانب سے الیکشن کمیشن سے شکایات کا اندراج کروایا گیا ہے لیکن کمیشن نے کوئی جامع اور موثر کارروائی نہیں کی ہے ۔ اسی طرح مخالف امیدواروں پر حملوں کے بھی واقعات پیش آئے ہیں۔ ان واقعات پر بھی الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے ۔
آج پر اترپردیش کے اسمبلی حلقہ کونڈا میں رائے دہی کے دوران سماجوادی پارٹی کے امیدوار گلشن یادو کی کار پر حملہ کردیا گیا ۔یہ حملہ کونڈا کے طاقتور لیڈر راجا بھیا کے حامیوں کی جانب سے کیا گیا ہے ۔ ایسے عناصر جو غنڈہ سرگرمیوںمیں ملوث ہیں سارے اترپردیش میں کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ سیاسی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مخالفین کو دھمکایا جارہا ہے ۔ ووٹرس کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے ۔ انہیں مذہبی حوالے دئے جا رہے ہیں۔ لالچ دے کر خریدنے کی کوششیں ہو رہی ہیںاس سب کے باوجود الیکشن کمیشن کا وجود کہیں نظر نہیں آتا ۔ ایسی بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کو روکنے کیلئے کوئی ٹھوس اور جامع کارروائی نہیں کی گئی ہے اور اس کے اثرات رائے دہی اور انتخابی عمل پر مرتب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ طاقتور اور غنڈہ عناصر کے حوصلے بڑھتے جار ہے ہیں اور وہ عوامی رائے یو یرغمال بنانے کے منصوبوں پر عمل کر رہے ہیں۔ فہرست رائے دہندگان سے مخصوص طبقات کے افراد کے نام حذف کرنا بھی اتفاق نہیں ہوسکتا ۔ یہ بھی ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہوسکتا ہے اور اس کے اثرات بھی انتخابی نتائج پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہ ساری سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور ان پر الیکشن کمیشن کی جانب سے سخت فیصلہ کرتے ہوئے اقدامات کئے جانے چاہئے تھے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا ۔ الیکشن کمیشن پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مسلسل الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ غیر جانبداری سے کام نہیں کر رہا ہے ۔
برسر اقتدار پارٹی کے قائدین اور وزراء و ارکان اسمبلی کی جانب سے بھی انتخابی قوانین کی دھجیاں اڑائی جانے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ کچھ معاملات میں ویڈیوز بھی منظر عام پر آئے ہیں۔ ان کے باوجود الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی ۔ ملک کے وزیر اعظم اور ریاست کے چیف منسٹر نے ابتدائی مراحل میں ووٹنگ سے چند گھنٹے قبل ٹی وی چینلوں کو انٹرویو دیتے ہوئے انہیں نشر کروایا ۔ یہ بھی انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تھی ۔ سارا کچھ ملک کے عوام نے بھی دیکھا لیکن افسوس کہ یہ سب کچھ الیکشن کمیشن کو نظر نہیں آیا ۔الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل کو بے داغ اور غیر جانبدار بنانے کیلئے حرکت میں آنے کی ضرورت تھی تاکہ جمہوری عمل میں عوام کا یقین مستحکم اور مضبوط ہوتا تاہم ایسا نہیں کیا گیا ۔