یو پی حکومت کو ایک اور پھٹکار

   

Ferty9 Clinic

اترپردیش میںآدتیہ ناتھ حکومت کو ایک بار پھر سپریم کورٹ کی پھٹکار کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ویسے تو اترپردیش کی حکومت عدالتوں کی پھٹکار کی عادی ہوگئی ہے اور تقریبا ہر مسئلہ پرا سے عدالتی سرزنش کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ یو پی حکومت کی آمرانہ روش اور من مانی فیصلوں کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہو رہی ہے ۔ سپریم کورٹ نے کل سی اے اے احتجاج کرنے والو ں کی جائیدادیں قرق کرنے اور ان سے جرمانے وصول کرنے کے مسئلہ پر حکومت کو انتباہ دیا ہے ۔ عدالت نے یو پی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ سی اے اے احجاجیوں سے جرمانے وصول کرنے کیلئے جاری کردہ نوٹسوں سے دستبرداری اختیار کرلے ۔ یہ اس کیلئے آخری موقع ہے ۔ بصورت دیگر عدالت ان نوٹسوں کو اپنے طور پر کالعدم قرار دینے کا انتباہ دیا ہے ۔ معزز جج نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ عدالتی احکام پر کس طرح سے عمل آوری کروائی جانی چاہئے ۔ عدالت نے اس سے قبل بھی یو پی حکومت کو ان نوٹسوں سے دستبرداری اختیار کرنے کی ہدایت دی تھی تاہم حکومت نے محض آمرانہ روش اور متعصب ذہنیت کی وجہ سے صرف چند نوٹسوں سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے دوسری تمام نوٹسوں پر کارروائی جاری رکھی تھی جس پر درخواست گذار عدالت سے رجوع ہوئے اور سپریم کورٹ نے یہ احکام جاری کئے ۔ عدالت کی ہدایت سے واضح ہوجاتا ہے کہ حکومت اترپردیش کی جانب سے اس معاملے میں بھی قوانین کی پاسداری نہیں کی گئی اور محض آمرانہ روش کو برقرار رکھتے ہوئے یہ جرمانے عائد کئے ہیں۔ عدالت نے یہ ریمارک بھی کیا کہ اترپردیش حکومت شکایت کنندہ ‘ استغاثہ اور جج کا کام خود کر رہی ہے جبکہ عدالت کی یہ واضح ہدایت موجود ہے کہ اس طرح کے معاملات میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کیلئے کسی عدالتی عہدیدار کا تقرر کیا جائے ۔ آدتیہ ناتھ کی قیادت والی حکومت نے عدالت کی اس ہدایت پر بھی عمل نہیں کیا بلکہ من مانی انداز جاری رکھا اور سی اے اے کے خلاف جمہوری انداز میں احتجاج کرنے والوں کو نشانہ بنانے کاسلسلہ جاری رکھا تھا ۔ عوام کو احتجاج کے حق سے محروم کرنے کے اراردوں کے تحت یہ کارروائی شروع کی تھی ۔
یہ درست ہے کہ کسی بھی طرح کے احتجاج کو قانون او ر دستور کے دائرہ کار میں ہونا چاہئے اور اس طرح کا احتجاج کرنا عوام کا حق ہے ۔ اس حق سے محروم کرنے کی کوششیں نہیں کی جانی چاہئیں کیونکہ جمہوریت میں عوامی احتجاج کی اہمیت ہے ۔ لیکن چونکہ بی جے پی کی مرکزی اور مختلف ریاستوں کی حکومتیں کسی بھی طرح کی مخالفت یا اختلاف رائے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں ایسے میں اپنے اقتدار ‘ مرکزی ایجنسیوں اور پولیس کا بیجا استعمال کرتے ہوئے مخالفین کو دبانے کچلنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مرکزی سطح پر بھی حکومت کی مخالفت کرنے والوں کو قوم مخالف اور غدار قرار دیتے ہوئے مقدمات درج کئے جا رہے ہیں۔ سماجی جہد کاروں اور صحافیوں کو بھی جیل بھیجنے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ اسی روش کو بی جے پی کی مختلف ریاستی حکومتوں نے بھی اختیار کیا ہے ۔ ہاتھرس میں ایک دلت لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل کے مقدمہ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی کو جیل بھیج دیا گیا ۔ دوپہر کے کھانے کی اسکیم میں روٹی اور نمک دئے جانے کا انکشاف کرنے والے صحافی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔ اسی طرح حکومت کی پالیسیوں اور پروگرامس سے اتفاق نہ کرنے والے سبھی کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بی جے پی کے اقتدار میں جاری ہے ۔ آدتیہ ناتھ حکومت کی جہاں تک بات ہے وہ تو دوسروں سے دو قدم آگے ہے اور چیف منسٹر بالکل آمرانہ انداز میں فیصلے کرتے ہوئے قانون سے کھلواڑ کرنے اور مخالفین کو کچلنے سے گریز کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔
اب جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے سی اے اے احتجاج کرنے والوں کے خلاف جرمانوں کی نوٹسیں واپس لینے کی ہدایت دی گئی ہے تو کم از کم اب آدتیہ ناتھ حکومت کو اپنی روش میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ ان نوٹسوں کو واپس لیتے ہوئے اپنی غلطی کو سدھارنے اور اس کا ازالہ کرنے سے حکومت کو گریز نہیںکرنا چاہئے ۔ صرف سی اے اے احتجاج تک ہی نہیں بلکہ دوسرے مقدمات میں بھی حکومت کو اپنے موقف کا جائزہ لینا چاہئے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ جہاں کوئی گناہ گار بچنے نہ پائے وہیں کسی بے گناہ کو بھی سزا نہ ملے ۔ یہی حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت کو اس ذمہ داری کی تکمیل کرنی چاہئے ۔
ترنمول کانگریس میں اختلافات ؟
مغربی بنگال میں مسلسل تیسری معیاد کیلئے اقتدار حاصل کرنے اور بی جے پی کو کراری شکست سے دوچار کرنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ترنمول کانگریس میںسب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔ پارٹی سربراہ ممتابنرجی اور ان کے بھانجے ابھیشیک بنرجی کے مابین اختلافات شائد شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ترنمول قیادت کی جانب سے ان اختلافات کو ختم کرنے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں لیکن ابھی تک ان میں کامیابی نہیں مل پائی ہے ۔ ابھیشیک بنرجی پارٹی میں ایک شخص ایک عہدہ کے اصول کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں لیکن انہیںدوسرے قائدین کی مخالفت اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ممتابنرجی کے ساتھ بھی ابھیشیک بنرجی کے اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ابھیشیک بنرجی جلد بازی میں ہیںاور بہت زیادہ پرجوش ہوگئے ہیں۔ وہ پارٹی کے داخلی امور میں بھی دوسرے قائدین کی رائے اور مشوروں کو قبول کرنے تیار نہیں ہیں۔ ممتابنرجی سبھی کو ساتھ لے کر چلنے کی حکمت عملی کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ایسے میں جو اختلافات ہیں وہ مزید شدت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ یہ اختلافات نہ پارٹی کیلئے اچھے اور نہ اس کے قائدین کیلئے ٹھیک ہوسکتے ہیں۔ ایسے وقت میں جبکہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میںبی جے پی کو شکست دینے کیلئے اپوزیشن کی صفوں میںاستحکام اور اتحاد ضروری ہے ترنمول کے قائدین کو ذاتی رائے اور مفادات پر مصر رہنے کی بجائے قومی اور پارٹی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے اختلافات کا ازالہ کرنا چاہئے ۔