حیدرآباد 7 اکٹوبر (سیاست نیوز) جماعت اسلامی ہند نے اترپردیش میں پولیس بربریت اور مسلمانوں کو منظم طور پر نشانہ بنانے کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امراء ملک معتصم خاں اور پروفیسر سلیم انجینئر کے علاوہ اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سیول رائٹس کے سکریٹری ندیم خاں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اترپردیش میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے منظم انداز میں کی جارہی کارروائی کی مذمت کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اترپردیش میں قانون کی بالادستی کے بجائے قانون کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ اترپردیش پولیس عوام کے محافظ کے بجائے اُن کی دشمن بن چکی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں ظلم و جبر کی ایک نئی لہر دیکھی گئی اور مسلمانوں کو آئی لو محمدؐ کے پوسٹرس اور بیانرس لگانے پر نشانہ بنایا گیا۔ عوامی جلوسوں پر پابندی تو سمجھ میں آتی ہے لیکن حکومت نے غیر ضروری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مکانات پر دھاوے کئے اور بے قصور افراد کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ مکانات کے اندر موجود پوسٹروں کو بھی نقصان پہنچایا گیا جو اِس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی مذہبی شناخت اور عقیدت کو مجرمانہ رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ندیم خاں نے کہاکہ 23 ستمبر تک ملک بھر میں 21 ایف آئی آر درج کی گئیں جن میں 1324 مسلمانوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔ 38 گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ بریلی میں 10 ایف آئی آر درج کئے گئے۔ اُنھوں نے کہاکہ کم عمر بچوں کو بھی واٹس ایپ ڈی پی پر آئی لو محمدؐ رکھنے کے لئے حراست میں لیا گیا۔ بلڈوزر جو کبھی ترقی کی علامت سمجھا جاتا تھا اب سیاسی انتقام کا ہتھیار بن چکا ہے۔ عوام کو خوفزدہ کرتے ہوئے جائیدادوں کو تباہ کرنے بلڈوزر کا استعمال ہورہا ہے۔ ندیم خاں نے کہاکہ این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق اترپردیش میں خواتین کے خلاف سب سے زیادہ جرائم اور شیڈول کاسٹس کے خلاف 15130 مظالم کے واقعات درج ہوئے ہیں۔ سرکاری مشنری کے ذریعہ اقلیتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حضور اکرم ﷺ سے محبت کو جرم بتانا دراصل ہندوستان کے آئین اور اُس کے اُصولوں پر حملہ ہے۔1
ملک معتصم خاں نے بہار میں فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کے نام پر بڑے پیمانہ پر ناموں کو حذف کرنے کی مذمت کی۔ اُنھوں نے کہاکہ نظرثانی کے عمل میں شفافیت کا فقدان ہے۔ مسلمان اور پسماندہ طبقات اِس مہم سے متاثر ہوئے ہیں۔ ابتداء میں 65 لاکھ نام حذف کئے گئے۔ بعد میں 47 لاکھ ناموں کے حذف کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی یہ کارروائی این آر سی اور سی اے اے کی یاد تازہ کرتی ہے۔1